پاکستان میں ووٹ ڈالنے کا طریقہ: پولنگ اسٹیشن کے اندر 7 مراحل، اور کسی نے آپ کے نام پر ووٹ ڈال دیا تو کیا کریں
پاکستان میں ووٹ ڈالنے کا طریقہ: اصل شناختی کارڈ کی شرط، پولنگ اسٹیشن کے اندر 7 مراحل، بیلٹ پر صحیح نشان، اور آپ کے نام پر ووٹ پڑ جائے تو ٹینڈرڈ بیلٹ۔

پاکستان میں ووٹ ڈالنے کے لیے اپنا اصل شناختی کارڈ لے کر پولنگ اسٹیشن جائیں۔ پولنگ افسر آپ کا نام پکارتا ہے، ووٹر لسٹ پر آپ کا نام کاٹتا ہے، انگلی پر سیاہی لگاتا ہے اور انگوٹھے کا نشان لیتا ہے۔ آپ کو مہر لگا بیلٹ پیپر ملتا ہے، آپ پردے کے پیچھے اس پر نشان لگاتے ہیں، اسے تہہ کرتے ہیں اور بیلٹ باکس میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر کوئی آپ کے نام پر پہلے ہی ووٹ ڈال چکا ہو تو ٹینڈرڈ بیلٹ پیپر مانگیں۔
اتوار 8 نومبر 2026 کو NA-77 گوجرانوالہ-I اور PP-203 ساہیوال-VI کے ووٹر صبح 8 سے شام 5 بجے تک ووٹ ڈالیں گے۔ پہلی بار ووٹ ڈالنے والے کے لیے پولنگ اسٹیشن الجھن والی جگہ لگ سکتا ہے۔ وہاں قطاریں ہوتی ہیں، کئی افسر ہوتے ہیں، اور بیلٹ پیپر پر بہت سے انتخابی نشان ہوتے ہیں۔
ہم نے الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 81 سے 89 پڑھے، اس کاپی میں جو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) اپنی ویب سائٹ پر شائع کرتا ہے۔ ان میں پولنگ اسٹیشن کے اندر کا ہر مرحلہ لکھا ہے۔ یہ گائیڈ انہی کی ترتیب پر چلتی ہے، پھر ان چار مسائل کا حل بتاتی ہے جو پیش آ سکتے ہیں۔

پہلے پولنگ اسٹیشن معلوم کریں اور اصل شناختی کارڈ ساتھ رکھیں
گھر سے نکلنے سے پہلے معلوم کر لیں کہ آپ کا ووٹ کہاں ہے۔ اپنا 13 ہندسوں کا شناختی کارڈ نمبر، بغیر ڈیش کے، 8300 پر بھیجیں۔ جواب میں آپ کا انتخابی علاقہ، بلاک کوڈ اور سیریل نمبر آتا ہے۔ ہماری گائیڈ 8300 پر ووٹ چیک کرنے کا طریقہ ہر لائن کا مطلب بتاتی ہے۔
پھر اپنا اصل شناختی کارڈ ساتھ لیں۔ سیکشن 84 کے مطابق پریزائیڈنگ آفیسر نادرا کا جاری کردہ اصل قومی شناختی کارڈ مانگے گا۔ فوٹو کاپی، موبائل پر کارڈ کی تصویر، یا کسی پارٹی کیمپ کی پرچی کافی نہیں۔ سیکشن 84(5) کہتا ہے کہ جو شخص اصل کارڈ نہ دکھائے اسے بیلٹ پیپر نہیں دیا جا سکتا۔
بہت سے لوگ زائد المیعاد (ایکسپائر) کارڈ کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں۔ ایکٹ میں صرف "اصل قومی شناختی کارڈ" لکھا ہے، میعاد ختم ہونے کا ذکر نہیں۔ ہمیں ecp.gov.pk پر 8 نومبر کی پولنگ کے لیے ایکسپائر کارڈ کے بارے میں کمیشن کا کوئی نوٹس نہیں ملا۔ اگر آپ کا کارڈ ایکسپائر ہو چکا ہے تو اسے ساتھ لے جائیں اور جانے سے پہلے الیکشن کمیشن کی ہیلپ لائن 051-111-327-000 پر پوچھ لیں۔
پولنگ اسٹیشن کے اندر سات مراحل میں ووٹ ڈالیں
سیکشن 84 ترتیب طے کرتا ہے۔ زیادہ تر کام افسر کرتے ہیں۔ آپ کا کام کارڈ دکھانا، سیاہی لگوانا اور اکیلے میں بیلٹ پیپر پر نشان لگانا ہے۔
- اپنے بوتھ پر پولنگ افسر کو اصل شناختی کارڈ دکھائیں۔
- افسر ووٹر لسٹ سے آپ کا نمبر اور نام پکارتا ہے اور آپ کا اندراج کاٹ دیتا ہے۔
- آپ ووٹر لسٹ پر اپنی تصویر کے سامنے انگوٹھے کا نشان لگاتے ہیں۔
- آپ کی انگلی یا انگوٹھے پر پکی سیاہی لگائی جاتی ہے، جو کئی دن تک نہیں اترتی۔
- بیلٹ پیپر کی پشت پر سرکاری مہر لگتی ہے اور دستخط ہوتے ہیں، اور آپ اس کے کاؤنٹر فائل پر انگوٹھا لگاتے ہیں۔ کاؤنٹر فائل وہ حصہ ہے جو کاٹ کر افسر کے پاس رہ جاتا ہے۔
- پردے کے پیچھے جائیں اور جس امیدوار کو چاہیں اس کے خانے کے اندر مہر لگائیں۔
- بیلٹ پیپر تہہ کریں، بیلٹ باکس میں ڈالیں اور پولنگ اسٹیشن سے باہر آ جائیں۔
سیکشن 84(8) کہتا ہے کہ ووٹر بغیر غیر ضروری دیر کے ووٹ ڈالے اور فوراً باہر چلا جائے۔ دوسروں کو ووٹ ڈالتے دیکھنے کے لیے اندر نہ رکیں۔
بیلٹ پر صحیح نشان لگائیں ورنہ ووٹ نہیں گنا جائے گا
صرف ایک بار مہر لگائیں، ایک امیدوار کے نام اور نشان والے خانے کے اندر۔ سیکشن 90 ان بیلٹ پیپرز کی فہرست دیتا ہے جو گنتی کے وقت نکال دیے جاتے ہیں۔ ان میں وہ پیپر شامل ہیں جن پر سرکاری مہر یا دستخط نہ ہوں، جن پر کوئی اضافی تحریر یا نشان ہو، اور جن پر کسی امیدوار کے لیے نشان نہ ہو۔
| آپ کیا کرتے ہیں | نتیجہ |
|---|---|
| ایک امیدوار کے خانے میں ایک مہر | ووٹ گنا جائے گا |
| کسی امیدوار پر مہر نہیں | گنتی سے خارج |
| اپنا نام، دستخط یا کوئی بات لکھ دی | گنتی سے خارج |
| کاغذ یا کوئی چیز ساتھ لگا دی | گنتی سے خارج |
| غلطی سے غلط مہر لگی اور واپس کر دیا | منسوخ، اور آپ کو نیا پیپر ملے گا |
NA-77 اور PP-203 کے امیدواروں کی فہرست، ہر ایک کے انتخابی نشان کے ساتھ، ہمارے صفحے 8 نومبر کے ضمنی انتخابات پر ہے۔
کسی نے آپ کے نام پر ووٹ ڈال دیا تو ٹینڈرڈ بیلٹ مانگیں
ایسا ہوتا ہے، اور قانون میں اس کا حل موجود ہے۔ سیکشن 85 کہتا ہے کہ اگر کوئی اور شخص آپ کے نام پر پہلے ہی ووٹ ڈال چکا ہو، تب بھی آپ عام طریقے سے اپنی شناخت ثابت کر کے بیلٹ پیپر لے سکتے ہیں۔ اسے ٹینڈرڈ بیلٹ پیپر کہتے ہیں۔
آپ اس پر عام بیلٹ کی طرح نشان لگاتے ہیں۔ لیکن یہ بیلٹ باکس میں نہیں جاتا۔ پریزائیڈنگ آفیسر اسے ایک الگ لفافے میں رکھتا ہے اور آپ کا نام ٹینڈرڈ ووٹس کی فہرست میں لکھتا ہے۔ یہ فہرست الیکشن کمیشن کو جاتی ہے، جو اسے انگوٹھوں کے نشانات کی فرانزک جانچ کے لیے نادرا کو بھیجتا ہے۔ پھر کمیشن اس شخص کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرتا ہے جس نے آپ کے نام پر ووٹ ڈالا۔
کسی اور کے نام پر ووٹ ڈالنا جعلی ووٹ (پرسونیشن) کہلاتا ہے۔ یہ بدعنوان عمل ہے جس کی سزا 3 سال تک قید ہے۔ ہماری اردو گائیڈ انتخابی جرائم اور سزائیں اس کی تفصیل دیتی ہے۔

تین اور مسائل اور قانون ان کے بارے میں کیا کہتا ہے
زیادہ تر پولنگ کا دن آرام سے گزر جاتا ہے۔ یہ وہ باقی صورتیں ہیں جن کا ذکر ایکٹ میں ہے، اسی ترتیب میں جس میں لوگوں کو پیش آتی ہیں۔
- غلطی سے بیلٹ خراب ہو گیا۔ سیکشن 87 کہتا ہے کہ آپ اسے واپس کر سکتے ہیں، بتائیں کہ یہ غلطی سے ہوا، اور نیا پیپر لے لیں۔ پرانا پیپر منسوخ کر دیا جاتا ہے۔
- آپ اکیلے ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ سیکشن 84(9) کہتا ہے کہ نابینا یا کسی اور وجہ سے اکیلے ووٹ نہ ڈال سکنے والا ووٹر پریزائیڈنگ آفیسر کی اجازت سے کسی ساتھی کی مدد لے سکتا ہے۔
- شام 5 بجے آپ ابھی قطار میں ہیں۔ سیکشن 89 کہتا ہے کہ جو لوگ وقت ختم ہونے پر پولنگ اسٹیشن کی عمارت یا احاطے کے اندر ووٹ کے انتظار میں ہوں وہ ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ اس کے بعد آنے والا ووٹ نہیں ڈال سکتا۔
کوئی آپ کے ووٹر ہونے پر اعتراض بھی کر سکتا ہے۔ سیکشن 86 کے تحت امیدوار کا پولنگ ایجنٹ 100 روپے جمع کرا کے کہہ سکتا ہے کہ آپ وہ شخص نہیں جس کا نام فہرست میں ہے۔ اس صورت میں بھی آپ ووٹ ڈالتے ہیں، چیلنجڈ بیلٹ پیپر پر، اور یہ ووٹ بھی گنا جاتا ہے۔ پرسکون رہیں اور اپنا کارڈ دکھائیں۔
اندر کیا نہ لے جائیں
پارٹی کے بیج اور پمفلٹ باہر چھوڑ دیں۔ پولنگ کے دن پولنگ اسٹیشن کے 400 میٹر کے اندر ووٹ مانگنے پر پابندی ہے۔ نشان لگے بیلٹ کی تصویر نہ لیں۔ سیکشن 178 کے تحت یہ جرم ہے، کیونکہ اس سے ووٹ کی رازداری ٹوٹتی ہے۔
اگر کوئی مسئلہ دیکھیں تو اس کی شکایت کریں۔ 8 نومبر کی پولنگ کے لیے الیکشن کمیشن کا کنٹرول سینٹر 051-111-327-000 اور complaints@ecp.gov.pk پر شکایات لے رہا ہے۔ تفصیل ہماری خبر الیکشن کمیشن کا کنٹرول سینٹر میں ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی پر ووٹ ڈال سکتے ہیں؟
نہیں۔ الیکشنز ایکٹ 2017 کا سیکشن 84 نادرا کا جاری کردہ اصل قومی شناختی کارڈ مانگتا ہے۔
کیا ایکسپائر شناختی کارڈ پر ووٹ ڈال سکتے ہیں؟
ایکٹ میں "اصل" کارڈ لکھا ہے اور میعاد کا ذکر نہیں۔ ہمیں 8 نومبر کے لیے کمیشن کا اس بارے میں کوئی نوٹس نہیں ملا، اس لیے کارڈ ساتھ لے جائیں اور ہیلپ لائن 051-111-327-000 پر تصدیق کر لیں۔
اگر کسی نے میرے نام پر پہلے ہی ووٹ ڈال دیا ہو تو کیا کروں؟
سیکشن 85 کے تحت پریزائیڈنگ آفیسر سے ٹینڈرڈ بیلٹ پیپر مانگیں۔ آپ کا معاملہ انگوٹھے کے نشان کی جانچ کے لیے نادرا کو جائے گا۔
کیا شام 5 بجے قطار میں ہوں تو ووٹ ڈال سکتا ہوں؟
جی ہاں، اگر آپ وقت ختم ہونے پر پولنگ اسٹیشن کی عمارت یا احاطے کے اندر ووٹ کے انتظار میں ہوں، سیکشن 89 کے تحت۔
اگر میں نے غلط امیدوار پر مہر لگا دی تو کیا ہوگا؟
باکس میں ڈالنے سے پہلے بیلٹ پریزائیڈنگ آفیسر کو واپس کریں اور سیکشن 87 کے تحت نیا پیپر مانگیں۔
کیا کوئی بزرگ یا نابینا ووٹر کی مدد کر سکتا ہے؟
جی ہاں۔ سیکشن 84(9) اکیلے ووٹ نہ ڈال سکنے والے ووٹر کو پریزائیڈنگ آفیسر کی اجازت سے کسی ساتھی کی مدد لینے دیتا ہے۔
آخری بار کب چیک کیا اور ذرائع
آخری بار 7 نومبر 2026 کو چیک کیا۔ الیکشنز ایکٹ 2017 (5 اگست 2023 تک اپ ڈیٹ) کے سیکشن 81 سے 90 اور 178 الیکشن کمیشن کے انتخابی قوانین والے صفحے پر موجود ہیں، اور ہیلپ لائن نمبر ہم نے الیکشن کمیشن کی 7 نومبر 2026 کی پریس ریلیز میں خود دیکھا۔
لکھاری کے بارے میں

