پاکستان میں وفاقی کفایت شعاری اقدامات 2026-27: نئی آسامیوں، گاڑیوں اور بیرون ملک علاج پر پابندی (پوری فہرست)
وفاقی حکومت نے 2026-27 میں کفایت شعاری جاری رکھی: نئی آسامیاں بند، 3 سال سے خالی آسامیاں ختم، گاڑیوں اور بیرون ملک علاج پر پابندی۔ پوری فہرست۔

پاکستان کی وفاقی حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات 2026-27 میں بھی جاری رکھے ہیں۔ نئی آسامیاں نہیں بنائی جا سکتیں، عارضی آسامیاں ایک سال سے زیادہ نہیں چل سکتیں، 3 سال سے خالی آسامیاں ختم کر دی گئی ہیں، اور سرکاری خرچ پر گاڑیاں خریدنے، بیرون ملک علاج اور غیر ضروری غیر ملکی دوروں پر پابندی ہے۔
یہ نوٹیفکیشن وزارت خزانہ (فنانس ڈویژن) نے 21 جولائی 2026 کو جاری کیا، جب وفاقی کابینہ نے 12 جون 2026 کو بجٹ کے ساتھ اس کی منظوری دی۔ ہم نے 8 نومبر 2026 کو فنانس ڈویژن کی ویب سائٹ کے circulars صفحے پر یہ نوٹیفکیشن خود کھول کر دیکھا۔ نیچے پوری فہرست ہے، اور یہ بھی کہ نوکری ڈھونڈنے والے، سرکاری افسر اور سرکاری کمپنی کے لیے اس کا کیا مطلب ہے۔

کابینہ نے 3 پرانے احکامات 2026-27 کے لیے جاری رکھے
نوٹیفکیشن نمبر 7(1)EXP-IV/2024-0001 کوئی نئے قوانین نہیں لکھتا۔ یہ کفایت شعاری کے 3 موجودہ احکامات کو مالی سال 2026-27 کے لیے جاری رکھتا ہے۔ یہ مالی سال 1 جولائی 2026 سے 30 جون 2027 تک ہے۔ دو احکامات فروری 2023 کے ہیں اور ایک ستمبر 2024 کا۔
| ضمیمہ | حکم | کس پر لاگو |
|---|---|---|
| ضمیمہ I | کیبنٹ ڈویژن O.M. No. 7-1/2023-Min-I، 28 فروری 2023 | وفاقی وزرا، وزرائے مملکت، مشیر اور معاونین خصوصی |
| ضمیمہ II | کیبنٹ ڈویژن O.M. No. 9-148/2002-Min-II، 28 فروری 2023 | سرکاری افسر اور سرکاری گاڑیاں |
| ضمیمہ III | فنانس ڈویژن لیٹر No. 7(1)-Exp-IV/2024، 4 ستمبر 2024 | وزارتوں اور ڈویژنوں کے اخراجات |
اس کے پیچھے کابینہ کا فیصلہ کیس نمبر 34/08/2026 ہے، جو 12 جون 2026 کو سالانہ بجٹ کے ساتھ ہوا۔ کیبنٹ ڈویژن نے 17 جولائی 2026 کو یہ فیصلہ آگے بھیجا، اور فنانس ڈویژن نے 21 جولائی کو نوٹیفکیشن جاری کیا۔
نئی آسامیوں، گاڑیوں اور بیرون ملک علاج پر پابندی
ضمیمہ III موجودہ بجٹ سے 6 طرح کے خرچ پر مکمل پابندی لگاتا ہے۔ یہ ہر وہ آسامی بھی ختم کرتا ہے جو پچھلے 3 سال سے خالی ہے۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ (PSDP) کے منصوبے پائیدار سامان اور نئی آسامیوں کے لیے اس سے مستثنیٰ ہیں۔
- گاڑیاں: کسی بھی قسم کی گاڑی کی خریداری بند، سوائے کام کی گاڑیوں کے، جیسے ایمبولینس، فائر بریگیڈ، تعلیمی اداروں کی بسیں اور وینز، کچرا اٹھانے والی گاڑیاں اور موٹر سائیکل۔
- مشینری اور آلات: بند، سوائے اسپتالوں، لیبارٹریوں، زراعت، کان کنی اور اسکولوں کے۔
- نئی آسامیاں: کوئی نئی آسامی نہیں، عارضی اور کنٹیجنٹ پیڈ آسامیاں بھی نہیں۔
- عارضی آسامیاں: ایک سال سے زیادہ جاری نہیں رہ سکتیں۔
- بیرون ملک علاج: سرکاری خرچ پر نہیں۔
- غیر ملکی دورے: سرکاری پیسے سے غیر ضروری دورے نہیں۔

نوکری ڈھونڈنے والے: نئی آسامیاں بند، موجودہ خالی آسامیاں نہیں
پابندی نئی آسامیاں بنانے اور عارضی آسامیوں کو ایک سال سے زیادہ چلانے پر ہے۔ نوٹیفکیشن کسی موجودہ آسامی کو پُر کرنے سے نہیں روکتا۔ لیکن جو آسامی 3 سال سے خالی ہے وہ ختم ہو چکی ہے، اس لیے بہت پرانی خالی آسامی کا اشتہار شاید نہ آئے۔
یعنی منظور شدہ آسامیوں پر بھرتی، جو پہلے سے بجٹ میں ہیں، اس نوٹیفکیشن سے بند نہیں ہوتی۔ ابھی کھلی سرکاری نوکریاں ہمارے صفحے پبلک سروس کمیشن کی کھلی نوکریاں پر ہیں۔
کنٹریکٹ اور عارضی ملازمین ایک سال کی حد یاد رکھیں۔ اگر آپ کی آسامی عارضی بنی تھی تو اپنے دفتر سے تحریری طور پر پوچھیں کہ کیا اسے جاری رکھا گیا ہے، اور کس منظوری سے۔
افسر: اکانومی کلاس، فائیو اسٹار ہوٹل نہیں، لگژری گاڑی نہیں
ضمیمہ II افسروں کے غیر ملکی سفر کو صرف ضروری دوروں تک محدود کرتا ہے، اکانومی کلاس میں اور ساتھ عملے کے بغیر۔ بیرون ملک افسر فائیو اسٹار ہوٹل میں نہیں ٹھہر سکتے۔ جو سینئر افسر کار مونیٹائزیشن لیتے ہیں ان سے سرکاری گاڑی واپس لی جاتی ہے، اور کسی افسر کو لگژری گاڑی نہیں ملتی۔
کار مونیٹائزیشن وہ ماہانہ نقد رقم ہے جو حقدار افسر کو سرکاری گاڑی کی جگہ دی جاتی ہے۔ جو افسر یہ رقم لے وہ سرکاری گاڑی نہیں رکھ سکتا۔ ضمیمہ وزارتوں سے کہتا ہے کہ سفر اور ہوٹل کا خرچ کم کرنے کے لیے ویڈیو کانفرنس استعمال کریں۔
اس سے تنخواہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ 2026 کے پے اسکیل جیسے نوٹیفائی ہوئے ویسے ہی ہیں، جن کی تفصیل نظرثانی شدہ بنیادی پے اسکیل 2026 میں ہے۔
وزرا تنخواہ چھوڑیں اور یوٹیلیٹی بل خود دیں
ضمیمہ I وفاقی وزرا، وزرائے مملکت، مشیروں اور وزیر اعظم کے معاونین خصوصی سے کہتا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر تنخواہ اور الاؤنس چھوڑ دیں۔ اس کے نکات یہ ہیں:
- کابینہ کے ارکان رضاکارانہ طور پر تنخواہ اور الاؤنس چھوڑیں۔
- وزرا گیس، بجلی، پانی اور ٹیلی فون کے بل خود ادا کریں۔
- کابینہ کے ارکان سے لگژری گاڑیاں واپس لی جائیں۔
- ضرورت ہو تو صرف ایک سیکیورٹی گاڑی دی جائے۔
- ملکی اور غیر ملکی سفر اکانومی کلاس میں ہو، بیرون ملک ساتھ عملہ نہ ہو اور فائیو اسٹار ہوٹل نہ ہو۔
اصل حکم میں "رضاکارانہ" کا لفظ ہے۔ یہ تنخواہ چھوڑنے کی درخواست ہے، تنخواہ لینے پر قانونی پابندی نہیں۔

سرکاری کمپنیاں اور ریگولیٹر بھی شامل، مگر نرمی کا راستہ موجود
نوٹیفکیشن کہتا ہے کہ ضمیمہ II اور III وفاقی منسلک محکموں، سرکاری کمپنیوں (SOEs) اور قانونی اداروں پر بھی لاگو ہیں، ریگولیٹری اتھارٹیز سمیت۔ سرکاری کمپنیوں کے لیے یہ اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (گورننس اینڈ آپریشنز) ایکٹ 2023 کی دفعہ 35 کے تحت وفاقی حکومت کی ہدایت مانی جاتی ہے۔
ایک راستہ بھی ہے۔ کابینہ نے فنانس ڈویژن کی کفایت شعاری کمیٹی کو اختیار دیا ہے کہ معقول وجہ ہو تو کیس ٹو کیس نرمی دے۔ اسپتال کی ایمبولینس پہلے ہی مستثنیٰ ہے، اور کوئی محکمہ مضبوط وجہ کے ساتھ کمیٹی کو درخواست دے سکتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا 2026-27 میں پاکستان میں نئی سرکاری نوکریوں پر پابندی ہے؟
نئی وفاقی آسامیاں بنانے پر پابندی ہے، عارضی آسامیاں بھی۔ موجودہ منظور شدہ آسامیاں پُر کرنے پر یہ نوٹیفکیشن پابندی نہیں لگاتا، مگر 3 سال سے خالی آسامیاں ختم ہو گئی ہیں۔
کیا وفاقی محکمے 2026-27 میں نئی گاڑیاں خرید سکتے ہیں؟
نہیں، سوائے کام کی گاڑیوں کے جیسے ایمبولینس، فائر بریگیڈ، تعلیمی اداروں کی بسیں، کچرا اٹھانے والی گاڑیاں اور موٹر سائیکل۔
کیا یہ اقدامات سرکاری کمپنیوں پر بھی لاگو ہیں؟
جی ہاں۔ ضمیمہ II اور III سرکاری کمپنیوں اور قانونی اداروں پر، ریگولیٹری اتھارٹیز سمیت، لاگو ہیں۔
کفایت شعاری کے اقدامات میں نرمی کون دے سکتا ہے؟
فنانس ڈویژن کی بنائی ہوئی کفایت شعاری کمیٹی، معقول وجہ ہو تو کیس ٹو کیس۔
کیا ان اقدامات سے سرکاری ملازمین کی تنخواہ کم ہوئی؟
نہیں۔ یہ آسامیوں، گاڑیوں، آلات، سفر اور بیرون ملک علاج کا خرچ روکتے ہیں۔ وزرا سے رضاکارانہ تنخواہ چھوڑنے کا کہا گیا ہے، ملازمین کی تنخواہ وہی ہے۔
ہم نے کیا پڑھا
ہم نے فنانس ڈویژن کا نوٹیفکیشن نمبر 7(1)EXP-IV/2024-0001 مورخہ 21 جولائی 2026، "Austerity Measures FY-2026-27 for Controlling Expenditures of the Federal Government"، فنانس ڈویژن کے circulars صفحے پر 8 نومبر 2026 کو کھولا۔ اس کے تینوں ضمیمے 2023 اور 2024 کے احکامات کی اسکین شدہ کاپیاں ہیں۔ وزارتیں یہ ہدایات اپنے محکموں تک پہنچاتی ہیں۔
لکھاری کے بارے میں

