پاکستان میں انتخابی عذرداری کیسے دائر کریں: 45 دن، 20,000 روپے اور ہر مرحلہ
پاکستان میں انتخابی نتیجہ چیلنج کرنے کا طریقہ: صرف امیدوار، گزٹ سے 45 دن، نیشنل بینک میں 20,000 روپے، 3 کاپیاں، ٹربیونل کا 180 دن میں فیصلہ اور 30 دن میں اپیل۔

پاکستان میں انتخابی نتیجے کو چیلنج کرنے کے لیے ہارنے والا امیدوار الیکشن ٹربیونل میں انتخابی عذرداری (election petition) دائر کرتا ہے۔ اس کی آخری مدت 45 دن ہے، جو کامیاب امیدوار کا نام سرکاری گزٹ میں شائع ہونے سے شروع ہوتی ہے۔ نیشنل بینک آف پاکستان میں 20,000 روپے سیکیورٹی جمع کروانی ہوتی ہے، درخواست کی 3 کاپیاں دینی ہوتی ہیں، اور باقی تمام امیدواروں کو فریق بنانا ہوتا ہے۔ ٹربیونل کو 180 دن میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
ہر ضمنی انتخاب کے بعد کوئی نہ کوئی ناخوش ہوتا ہے۔ آج 8 نومبر 2026 کو NA-77 گوجرانوالہ-I اور PP-203 ساہیوال-VI کی پولنگ کے بعد بھی یہی سوال اٹھے گا: کیا نتیجہ چیلنج ہو سکتا ہے، اور کون کر سکتا ہے؟
ہم نے 8 نومبر 2026 کو الیکشنز ایکٹ 2017 کا باب 9 اور الیکشن رولز 2017 کا رول 139 خود پڑھا۔ دونوں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کی ویب سائٹ پر ہیں۔ یہ گائیڈ بتاتی ہے کہ کون درخواست دے سکتا ہے، آخری تاریخ کیا ہے، فیس کتنی ہے، کون سے کاغذ چاہییں اور ٹربیونل کیا حکم دے سکتا ہے۔

صرف اسی انتخاب کا امیدوار درخواست دے سکتا ہے
دفعہ 139 کہتی ہے کہ کسی انتخاب پر سوال صرف اسی انتخاب کے امیدوار کی عذرداری کے ذریعے اٹھایا جا سکتا ہے۔ عام ووٹر یہ درخواست نہیں دے سکتا۔ کوئی سیاسی جماعت بھی اپنے نام سے یہ درخواست نہیں دے سکتی۔
اگر آپ ووٹر ہیں اور آپ نے دھاندلی دیکھی تو آپ کا راستہ ECP کو شکایت ہے، عذرداری نہیں۔ رابطے ہمارے صفحے 8 نومبر کے لیے ECP کنٹرول سینٹر پر ہیں۔ امیدوار پھر آپ کا ثبوت اپنی درخواست میں استعمال کر سکتا ہے۔
آخری مدت پولنگ کے دن سے نہیں، گزٹ سے 45 دن ہے
دفعہ 142 کے مطابق عذرداری کامیاب امیدوار کا نام سرکاری گزٹ میں شائع ہونے کے 45 دن کے اندر الیکشن ٹربیونل میں پیش ہونی چاہیے۔ کامیاب امیدوار وہ ہے جس کا نوٹیفکیشن ECP جاری کرتا ہے۔
یعنی گھڑی پولنگ کے دن سے نہیں چلتی۔ یہ اس دن سے چلتی ہے جب فارم 49 کے حتمی نتیجے کے بعد ECP گزٹ میں نام شائع کرتا ہے۔ یہ ترتیب ہماری گائیڈ فارم 45، 47 اور 49 میں ہے۔
اگر درخواست رجسٹرڈ ڈاک یا کوریئر سے 45 دن کے اندر بھیج دی جائے تو وہ وقت پر مانی جاتی ہے۔ ڈاک کی رسید سنبھال کر رکھیں۔
عذرداری 7 مراحل میں دائر کریں
ایکٹ اور رول 139 یہ ترتیب دیتے ہیں۔ پہلے پانچ میں سے کوئی بھی رہ جائے تو دفعہ 145 کے تحت درخواست سنے بغیر مسترد ہو سکتی ہے۔
- نیشنل بینک آف پاکستان کی کسی بھی برانچ میں ECP کے اکاؤنٹ ہیڈ C02166 میں 20,000 روپے سیکیورٹی جمع کروائیں اور رسید رکھیں۔
- درخواست میں حقائق صاف صاف لکھیں، اور کسی بدعنوانی یا غیر قانونی عمل کی پوری تفصیل ناموں، تاریخوں اور جگہوں کے ساتھ دیں۔
- گواہوں کی فہرست اور حلف ناموں پر ان کے بیانات، اور اپنے دستاویزات ساتھ لگائیں۔
- باقی تمام امیدواروں کو فریق (respondent) بنائیں۔
- ہر فریق کو تمام ضمیموں سمیت پوری کاپی دستی، رجسٹرڈ ڈاک یا کوریئر سے بھیجیں، اور اس کا حلف نامہ لگائیں۔
- درخواست پر اس طرح دستخط اور تصدیق کریں جیسے ضابطہ دیوانی (CPC) میں لکھا ہے۔
- درخواست کی 3 کاپیاں خود، تحریری طور پر مجاز شخص کے ذریعے، یا رجسٹرڈ ڈاک یا کوریئر سے ٹربیونل میں جمع کروائیں۔

وکیل کی فیس اس 20,000 روپے کے علاوہ ہوتی ہے۔ ایکٹ کی دفعہ 142 گورنمنٹ ٹریژری میں رقم جمع کروانے کی بھی اجازت دیتی ہے، مگر رولز صرف نیشنل بینک کا ذکر کرتے ہیں، اس لیے نیشنل بینک بہتر ہے۔
اسمبلی کی نشست پر ٹربیونل ہائی کورٹ کا جج ہوتا ہے
دفعہ 140 کے مطابق ٹربیونل ECP مقرر کرتا ہے۔ قومی یا صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کی نشست کے لیے ٹربیونل ہائی کورٹ کا حاضر سروس جج ہوتا ہے، جسے اس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے مشورے سے چنا جاتا ہے۔ بلدیاتی نشست کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ہوتا ہے۔
| نشست | درخواست کون سنتا ہے | 30 دن میں اپیل کہاں |
|---|---|---|
| قومی اسمبلی (جیسے NA-77) | ہائی کورٹ کا جج | سپریم کورٹ، ایکٹ کے متن کے مطابق |
| صوبائی اسمبلی (جیسے PP-203) | ہائی کورٹ کا جج | سپریم کورٹ، ایکٹ کے متن کے مطابق |
| سینیٹ | ہائی کورٹ کا جج | سپریم کورٹ، ایکٹ کے متن کے مطابق |
| بلدیاتی حکومت | ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج | ہائی کورٹ، فیصلہ حتمی |
ٹربیونل کو 180 دن میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے
دفعہ 148 کے مطابق اگر فریق مقررہ تاریخوں پر متفق نہ ہوں تو ٹربیونل روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرتا ہے۔ کوئی التوا 7 دن سے زیادہ نہیں ہو سکتا، اور ہر التوا پر 1,00,000 روپے دینے ہوتے ہیں۔ درخواست دائر ہونے کے 180 دن میں فیصلہ ہونا چاہیے۔
180 دن گزرنے کے بعد ہر التوا پر 10,000 سے 50,000 روپے خصوصی خرچ لگتا ہے اور التوا 3 دن سے زیادہ نہیں ہوتا۔ اگر تاخیر کامیاب امیدوار کی وجہ سے ہو تو ٹربیونل حکم دے سکتا ہے کہ وہ مقدمہ ختم ہونے تک رکن کے طور پر کام نہ کرے۔
ٹربیونل نتیجہ کالعدم کر سکتا ہے یا دوبارہ پولنگ کا حکم دے سکتا ہے
دفعہ 154 کے تحت ٹربیونل درخواست خارج کر سکتا ہے۔ یا کامیاب امیدوار کا انتخاب کالعدم قرار دے کر ایک یا زیادہ پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم دے سکتا ہے۔ وہ درخواست گزار یا کسی دوسرے امیدوار کو کامیاب قرار دے سکتا ہے، یا پورے حلقے کا انتخاب کالعدم کر کے نیا انتخاب کروا سکتا ہے۔
دفعہ 156 کالعدم کرنے کی وجوہات بتاتی ہے، جیسے غلط کاغذات نامزدگی، کاغذات کے دن امیدوار کا اہل نہ ہونا، یا کامیاب امیدوار یا اس کے ایجنٹ کا بدعنوان یا غیر قانونی عمل۔
اپیل 30 دن کے اندر ہوتی ہے
دفعہ 155 ٹربیونل کے فیصلے کے بعد اپیل کے لیے 30 دن دیتی ہے۔ ECP کی ویب سائٹ پر ایکٹ کا متن اسمبلی اور سینیٹ کی اپیل سپریم کورٹ اور بلدیاتی اپیل ہائی کورٹ بھیجتا ہے۔ ہر اپیل کا فیصلہ 180 دن میں ہونا چاہیے۔
ایک احتیاط: ECP کی ویب سائٹ پر ایکٹ کی کاپی اگست 2023 تک کی ہے۔ 2025 کی آئینی تبدیلیوں سے وفاقی آئینی عدالت بنی ہے۔ ہمیں کوئی تازہ مجموعی متن نہیں ملا جو بتائے کہ اپیل کی جگہ بدلی یا نہیں، اس لیے درخواست سے پہلے کسی وکیل سے ضرور پوچھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا پاکستان میں ووٹر انتخابی عذرداری دائر کر سکتا ہے؟
نہیں۔ الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 139 کے مطابق صرف اسی انتخاب کا امیدوار عذرداری دائر کر سکتا ہے۔
انتخابی عذرداری کی آخری تاریخ کیا ہے؟
دفعہ 142 کے مطابق کامیاب امیدوار کا نام سرکاری گزٹ میں شائع ہونے کے 45 دن کے اندر۔
انتخابی عذرداری کی فیس کتنی ہے؟
رول 139 کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان میں 20,000 روپے سیکیورٹی جمع کروانی ہوتی ہے۔ وکیل کی فیس الگ ہے۔
الیکشن ٹربیونل کتنے دن میں فیصلہ کرتا ہے؟
ایکٹ کے مطابق درخواست دائر ہونے کے 180 دن کے اندر فیصلہ ہونا چاہیے۔
اگر کوئی ضروری کاغذ رہ جائے تو کیا ہوگا؟
دفعہ 145 کے مطابق اگر دفعہ 142، 143 یا 144 پر عمل نہ ہو تو ٹربیونل درخواست سنے بغیر مسترد کر دیتا ہے۔
آخری بار چیک کیا گیا اور ذرائع
آخری بار 8 نومبر 2026 کو چیک کیا گیا۔ ہم نے الیکشنز ایکٹ 2017 (5 اگست 2023 تک ترمیم شدہ) کی دفعات 139 سے 156 اور الیکشن رولز 2017 (31 دسمبر 2023 تک ترمیم شدہ) کا رول 139 ECP کے الیکشن قوانین صفحے پر پڑھا۔ کسی وفاقی قانون کا تازہ متن دیکھنے کا طریقہ ہمارے صفحے وفاقی قانون کا تازہ متن پر ہے۔
لکھاری کے بارے میں

