KP بلدیاتی انتخابات روک دیے گئے: آرٹیکل 140A ہر ضلع میں معطل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کا فیصلہ
الیکشن کمیشن نے 5 نومبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا سارا کام روک دیا، کیونکہ وفاقی حکم نے ہر ضلع میں آرٹیکل 140A معطل کیا۔ اس کا آپ پر اثر۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے خیبر پختونخوا (KP) کے باقی اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کی تمام تیاریاں تاحکم ثانی روک دی ہیں۔ یہ فیصلہ 5 نومبر 2026 کو ہوا، جب وفاقی حکومت کے 4 نومبر کے ایک حکم نامے نے صوبے کے ہر ضلع میں آئین کا آرٹیکل 140A معطل کر دیا۔ آرٹیکل 140A وہ شق ہے جو صوبوں میں بلدیاتی حکومتیں لازمی بناتی ہے اور ان کے انتخابات کی ذمہ داری ECP کو دیتی ہے۔
ہم نے 6 نومبر کو ECP کی ویب سائٹ پر کمیشن کی 5 نومبر 2026 کی پریس ریلیز خود پڑھی، جو اردو میں ہے۔ وفاقی حکم نامہ ہم نے خود نہیں دیکھا، اس لیے اس کی باتیں یہاں اسی طرح لکھی ہیں جیسے ECP نے بتائی ہیں۔ یہ صفحہ بتاتا ہے کہ کیا بدلا، آرٹیکل 140A کیا کہتا ہے، اور KP کے ووٹروں اور امیدواروں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے۔ ایمرجنسی کا پس منظر ہمارے انگریزی صفحے KP میں ایمرجنسی اور گورنر راج پر ہے۔
ECP نے KP کے تمام باقی اضلاع میں بلدیاتی انتخابات روک دیے
ECP کی ریلیز کے مطابق کمیشن نے فیصلہ کیا تھا کہ KP میں سوائے ان اضلاع کے بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں جہاں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد آرٹیکل 140A معطل کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں کئی اقدامات شروع ہو چکے تھے۔ 5 نومبر کو یہ سارا کام تاحکم ثانی روک دیا گیا۔
کمیشن کا اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی صدارت میں ہوا۔ اس میں وفاقی حکومت کا آرڈر نمبر 3 مورخہ 4 نومبر 2026 زیر بحث آیا۔ ECP کے مطابق اس حکم نامے کی شق نمبر 2 آرٹیکل 140A کو معطل کرتی ہے، اور اس کا اطلاق پچھلے حکم کے تحت "مخصوص" (Designated) اضلاع کے علاوہ KP کے باقی تمام اضلاع پر بھی کر دیا گیا ہے۔
ریلیز کے الفاظ میں، کمیشن نے غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا کہ اس حکم نامے کی وجہ سے صوبے کے باقی اضلاع میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔ اس لیے اب تک کیے گئے تمام اقدامات تاحکم ثانی روک دیے جائیں۔

آرٹیکل 140A آئین کی بلدیاتی حکومت والی شق ہے
آرٹیکل 140A کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ کہتا ہے کہ ہر صوبہ قانون کے ذریعے بلدیاتی نظام قائم کرے گا اور سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب مقامی نمائندوں کو دے گا۔ دوسرا حصہ کہتا ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات ECP کرائے گا۔ اسے معطل کرنے سے ان انتخابات کی قانونی بنیاد ختم ہو جاتی ہے۔
قومی اسمبلی کے شائع کردہ آئین میں انگریزی متن یہ ہے، ساتھ ہمارا آسان اردو مطلب:
- 140A(1): "Each Province shall, by law, establish a local government system and devolve political, administrative and financial responsibility and authority to the elected representatives of the local governments." یعنی ہر صوبہ قانون بنا کر بلدیاتی نظام قائم کرے گا اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیار منتخب مقامی نمائندوں کو دے گا۔
- 140A(2): "Elections to the local governments shall be held by the Election Commission of Pakistan." یعنی بلدیاتی حکومتوں کے انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کرائے گا۔
ECP کی ریلیز بھی یہی بات کہتی ہے۔ اس کے مطابق کمیشن کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ آرٹیکل 140A صوبوں میں بلدیاتی حکومتوں کے قیام سے متعلق ہے، جبکہ اس کی ذیلی شق (2) کے تحت ان انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے۔
آرٹیکل 234 کے تحت اعلان صوبائی اداروں سے متعلق شقیں معطل کر سکتا ہے
گورنر راج آرٹیکل 234 کے تحت لگتا ہے۔ اس کی شق (1)(c) اجازت دیتی ہے کہ اعلان (Proclamation) میں صوبے کے کسی ادارے یا اتھارٹی سے متعلق آئین کی کسی شق کو پورا یا جزوی طور پر معطل کیا جائے۔ ہائی کورٹ کو اس سے نہیں چھیڑا جا سکتا۔ لگتا ہے کہ وفاقی حکم نامہ اسی اختیار پر مبنی ہے، لیکن ہم نے حکم نامہ نہیں پڑھا۔
آرٹیکل 234 ایک وقت کی حد بھی رکھتا ہے۔ اعلان کتنی دیر چل سکتا ہے، متن کے مطابق یہ ہے۔
| آرٹیکل 234 کا اصول | متن کیا کہتا ہے |
|---|---|
| پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنا | اعلان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھنا ہو گا |
| منظوری کے بغیر ختم | مشترکہ اجلاس منظوری نہ دے تو دو مہینے بعد ختم ہو جاتا ہے |
| توسیع | مشترکہ اجلاس ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ دو مہینے بڑھا سکتا ہے |
| آخری حد | کوئی اعلان چھ مہینے سے زیادہ نافذ نہیں رہ سکتا |
| ہائی کورٹس | ان کے اختیارات اور ان سے متعلق شقیں معطل نہیں ہو سکتیں |
اطلاعات کے مطابق KP میں گورنر راج 11 اکتوبر 2026 کو لگا تھا۔ اگر یہ تاریخ درست ہے تو دو مہینے کی حد تقریباً 11 دسمبر 2026 کو، اور چھ مہینے کی حد تقریباً 11 اپریل 2027 کو آتی ہے۔ ہم نے اعلان خود نہیں دیکھا، اس لیے دونوں تاریخوں کو متن سے ہمارا حساب سمجھیں، کوئی سرکاری آخری تاریخ نہیں۔

KP کے ووٹروں اور امیدواروں کے لیے اس کا مطلب
فی الحال KP میں کہیں بھی بلدیاتی انتخابات کی تیاری نہیں ہو رہی۔ جو لوگ ایمرجنسی والے اضلاع کے باہر ویلج، نیبرہڈ یا تحصیل کونسل کی نشست کے لیے تیاری کر رہے تھے، وہ ECP کے اگلے اعلان تک انتخابی مہم پر پیسہ خرچ نہ کریں۔ ECP کی ریلیز میں کوئی نئی تاریخ نہیں دی گئی۔
KP کا شہری اب بھی یہ کام کر سکتا ہے۔
- اپنا شناختی کارڈ نمبر 8300 پر بھیج کر اپنا ووٹ چیک کریں، تاکہ انتخابات کا اعلان ہونے پر آپ کا اندراج درست ہو۔
- جو کاغذات نامزدگی آپ جمع کر چکے ہیں، انہیں سنبھال کر رکھیں۔ شیڈول آنے تک کہیں جمع نہ کرائیں۔
- KP کے بلدیاتی انتخابات کے کسی نئے حکم کے لیے ECP کی ویب سائٹ دیکھتے رہیں۔
- پیدائش کے سرٹیفکیٹ جیسی کسی مقامی سروس کے لیے پہلے کی طرح اپنی مقامی کونسل کے دفتر سے رابطہ کریں۔ ECP کی ریلیز کونسل کی سروسز کے بارے میں کچھ نہیں کہتی۔
- اگر ایمرجنسی کے بارے میں آپ کا کوئی مقدمہ عدالت میں ہے تو 4 نومبر کے حکم نامے پر اپنے وکیل سے بات کریں۔
8300 کا جواب ہماری گائیڈ 8300 سے ووٹ چیک کرنے کا طریقہ میں سمجھایا گیا ہے۔ ایمرجنسی کے اختیارات کی مزید تفصیل ہمارے صفحے آرٹیکل 232 اور 234 پر ہے۔

پنجاب اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات جاری ہیں
KP کا فیصلہ دوسرے علاقوں پر اثر نہیں ڈالتا۔ اسی دن ECP نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے 7 فروری 2027 طے کی۔ اسلام آباد میں یونین کونسل کی نشستوں کے کاغذات نامزدگی 8 نومبر 2026 تک جمع ہو سکتے ہیں، اور پولنگ 20 دسمبر 2026 کو ہے۔
تفصیل ہمارے صفحات پنجاب کا پہلا مرحلہ اور اسلام آباد کا نظر ثانی شدہ شیڈول پر ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں؟
نہیں۔ 5 نومبر 2026 کو ECP نے KP کے باقی اضلاع میں تمام تیاریاں تاحکم ثانی روک دیں۔
ECP نے KP کے بلدیاتی انتخابات کیوں روکے؟
ECP کے مطابق وفاقی حکومت کے 4 نومبر 2026 کے حکم نامے نے KP کے تمام اضلاع میں آرٹیکل 140A معطل کر دیا ہے۔ یہی آرٹیکل بلدیاتی انتخابات کی بنیاد ہے۔
آرٹیکل 140A کیا ہے؟
یہ ہر صوبے کو قانون کے ذریعے منتخب بلدیاتی حکومتیں قائم کرنے کا پابند کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ ان کے انتخابات ECP کرائے گا۔
KP کے کون سے اضلاع پہلے سے ایمرجنسی میں تھے؟
ECP کی ریلیز انہیں "مخصوص" اضلاع کہتی ہے لیکن ان کی فہرست نہیں دیتی۔ اکتوبر کی اطلاعات میں 12 اضلاع کا ذکر تھا، جس کی ہم نے اعلان سے تصدیق نہیں کی۔
KP میں گورنر راج کتنی دیر چل سکتا ہے؟
آرٹیکل 234 کے تحت اعلان دو مہینے بعد ختم ہو جاتا ہے اگر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسے منظور نہ کرے۔ یہ کبھی چھ مہینے سے زیادہ نہیں چل سکتا۔
کیا KP کو بلدیاتی انتخابات کی نئی تاریخ ملے گی؟
ECP نے کوئی تاریخ نہیں دی۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ روک تاحکم ثانی ہے۔
ہم نے کیا چیک کیا اور ذرائع
6 نومبر 2026 کو ہم نے ECP کی KP کے باقی اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری روکنے کی پریس ریلیز پڑھی، جو 5 نومبر 2026 کی ہے اور اردو میں ہے۔ آرٹیکل 140A اور 234 ہم نے قومی اسمبلی کے شائع کردہ آئین میں پڑھے۔ وفاقی آرڈر نمبر 3 مورخہ 4 نومبر 2026 یا گورنر راج کا اعلان ہمیں کسی سرکاری صفحے پر نہیں ملا، اس لیے ان کی باتیں ECP کے بیان کے مطابق لکھی ہیں۔
لکھاری کے بارے میں

