سری لنکا کے خلاف پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں عامر جمال اور 3 نئے کھلاڑی شامل
سری لنکا کے خلاف پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں عامر جمال، علی شبیر، ثاقب خان اور طیب عارف شامل۔ علی عثمان اور عبداللہ فضل فارغ۔ پورا 16 رکنی اسکواڈ یہاں دیکھیں۔

سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان کے اسکواڈ میں 4 کھلاڑی شامل کر لیے گئے ہیں: آل راؤنڈر عامر جمال، فاسٹ بولر علی شبیر اور ثاقب خان، اور بیٹر محمد طیب عارف۔ لیفٹ آرم اسپنر علی عثمان اور بیٹر عبداللہ فضل کو اسکواڈ سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ اب اسکواڈ میں 16 کھلاڑی ہیں اور کپتان بدستور بابر اعظم ہیں۔
آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل، کرکٹ کا عالمی ادارہ) نے یہ تبدیلی 7 نومبر 2026 کو بتائی۔ پہلا ٹیسٹ پیر 9 نومبر کو راولپنڈی میں شروع ہو رہا ہے۔ چار نئے کھلاڑیوں میں سے تین نے ابھی تک پاکستان کے لیے کوئی بین الاقوامی میچ نہیں کھیلا۔ نیچے پورا اسکواڈ، آنے اور جانے والے کھلاڑی، اور ہر نئے کھلاڑی کا ریکارڈ دیا گیا ہے۔
ٹیسٹ اسکواڈ میں 4 کھلاڑی آئے اور 2 باہر ہوئے
7 نومبر کو پاکستان کا ٹیسٹ اسکواڈ 14 سے بڑھ کر 16 کھلاڑیوں کا ہو گیا۔ عامر جمال، علی شبیر، ثاقب خان اور محمد طیب عارف اسکواڈ میں آئے۔ علی عثمان اور عبداللہ فضل کو 24 اکتوبر کو اعلان کیے گئے اسکواڈ سے فارغ کیا گیا۔
پہلا اسکواڈ شروع سے ہی مکمل نہیں تھا۔ اس کے اعلان کے وقت پی سی بی نے کہا تھا کہ سری لنکا کے خلاف تین روزہ وارم اپ میچ کے بعد دو فاسٹ بولر شامل کیے جائیں گے۔ آخر میں تین تیز بولنگ کے آپشن اور ایک بیٹر شامل ہوئے۔ آپ اس کا موازنہ پہلے اعلان کردہ 14 رکنی ٹیسٹ اسکواڈ سے کر سکتے ہیں۔
| تبدیلی | کھلاڑی | کردار |
|---|---|---|
| شامل | عامر جمال | تیز بولنگ کرنے والے آل راؤنڈر |
| شامل | علی شبیر | فاسٹ بولر، پہلی بار طلب |
| شامل | ثاقب خان | فاسٹ بولر، پہلی بار طلب |
| شامل | محمد طیب عارف | بیٹر، پہلی بار طلب |
| فارغ | علی عثمان | لیفٹ آرم اسپنر |
| فارغ | عبداللہ فضل | بیٹر |

پاکستان کا پورا ٹیسٹ اسکواڈ اب 16 کھلاڑیوں کا ہے
بابر اعظم 16 رکنی اسکواڈ کی قیادت کر رہے ہیں۔ سعود شکیل، سلمان علی آغا اور محمد عباس سینئر کھلاڑی ہیں۔ محمد غازی غوری اور سعد بیگ دو وکٹ کیپر ہیں۔ اس فہرست میں کم از کم 6 کھلاڑی ایسے ہیں جنہیں ابھی پہلی ٹیسٹ کیپ کا انتظار ہے۔
یہ اسکواڈ اسی ترتیب سے ہے جس طرح آئی سی سی نے شائع کیا:
- بابر اعظم (کپتان)
- عامر جمال
- علی شبیر
- عرفات منہاس
- اذان اویس
- محمد عباس
- محمد غازی غوری (وکٹ کیپر)
- محمد سلیمان
- محمد طحہ
- محمد طیب عارف
- رضا اللہ
- سعد بیگ (وکٹ کیپر)
- سلمان علی آغا
- سمیر منہاس
- ثاقب خان
- سعود شکیل
جن 6 کھلاڑیوں کے بارے میں ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے ابھی ٹیسٹ نہیں کھیلا، وہ یہ ہیں: علی شبیر، ثاقب خان اور محمد طیب عارف، جو اب شامل ہوئے، اور محمد طحہ، سمیر منہاس اور محمد سلیمان، جن کا نام اکتوبر میں آیا تھا۔ یہ گنتی ہم نے آئی سی سی کی دونوں اسکواڈ رپورٹس سے کی ہے۔ میچ میں صرف 11 کھلاڑی کھیل سکتے ہیں، اس لیے کون ڈیبیو کرے گا، یہ پیر کو ٹاس کے وقت ہی پتا چلے گا۔
عامر جمال ڈومیسٹک فائنل کی اچھی کارکردگی کے بعد واپس آئے
چاروں میں سے صرف عامر جمال پاکستان کے لیے کھیل چکے ہیں۔ آئی سی سی کے مطابق ان کی عمر 30 سال ہے۔ وہ 9 ٹیسٹ، 3 ون ڈے اور 6 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل چکے ہیں۔ پریزیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون کے فائنل میں انہوں نے 32 رنز دے کر 7 وکٹیں لیں اور 55 رنز بھی بنائے۔ اسی کارکردگی پر ان کی واپسی ہوئی۔
ٹیم کے توازن کے لیے یہ اہم ہے۔ ایک تیز بولر جو آٹھویں نمبر پر بیٹنگ بھی کر سکے، اس سے پاکستان رنز کم کیے بغیر ایک اضافی بولر کھلا سکتا ہے۔ ہوم ٹیسٹ میں اکثر تیسرے دن تک پچ بیٹنگ کے لیے آسان ہو جاتی ہے۔ ایسے میں ایک اضافی بولر یہ طے کر سکتا ہے کہ ٹیم کتنی دیر حملہ جاری رکھ سکتی ہے۔
تین نئے کھلاڑیوں نے وارم اپ میچ سے جگہ بنائی
طیب عارف، علی شبیر اور ثاقب خان تینوں نے 4 سے 6 نومبر تک اسلام آباد کلب میں سری لنکا کے خلاف تین روزہ میچ میں پیٹرنز الیون کی طرف سے کھیلا۔ آئی سی سی کے مطابق تینوں کو پہلی بار پاکستان کی ٹیم میں بلایا گیا ہے۔
| کھلاڑی | آئی سی سی کے مطابق فرسٹ کلاس ریکارڈ |
|---|---|
| محمد طیب عارف | 7 میچوں میں 727 رنز، اوسط 66.09، تین سنچریاں |
| علی شبیر | 8 میچوں میں 22 وکٹیں، عمر 19 سال |
| ثاقب خان | قائداعظم ٹرافی 2025-26 میں 9 میچوں میں 47 وکٹیں، اوسط 20.60 |
ثاقب خان کے اعداد سب سے نمایاں ہیں۔ 9 میچوں میں 47 وکٹیں، یعنی ہر میچ میں 5 سے زیادہ۔ علی شبیر 19 سال کے ساتھ اسکواڈ کے سب سے کم عمر کھلاڑی ہیں۔ طیب عارف کی اوسط 66 کے قریب ہے، تقریباً اتنی ہی جتنی 66.36 کی اوسط پر اکتوبر میں محمد طحہ کو جگہ ملی تھی۔
ہم وارم اپ میچ کا اسکور کارڈ خود نہیں پڑھ سکے۔ پی سی بی کی ویب سائٹ نے 7 اور 8 نومبر کو ہمارا کنکشن قبول نہیں کیا، اس لیے ہم نے یہ نہیں لکھا کہ اس میچ میں تینوں نے کیسی کارکردگی دکھائی۔

راولپنڈی ٹیسٹ کے لیے اس تبدیلی کا مطلب
پہلا ٹیسٹ پیر 9 نومبر سے جمعہ 13 نومبر تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوگا۔ دوسرا ٹیسٹ 17 سے 21 نومبر تک لاہور میں ہوگا۔ دونوں میچ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (ڈبلیو ٹی سی) کا حصہ ہیں۔
علی عثمان کے جانے سے اسکواڈ میں اسپیشلسٹ اسپنرز کم ہو گئے ہیں۔ تین تیز بولرز کے آنے سے لگتا ہے کہ راولپنڈی میں زیادہ زور تیز بولنگ پر ہوگا۔ یہ ہماری اپنی رائے ہے، پی سی بی کا بیان نہیں۔ اصل پلیئنگ الیون ٹاس کے وقت ہی سامنے آئے گی۔ گراؤنڈ کے پرانے نتائج ہمارے راولپنڈی ٹیسٹ ریکارڈ کے صفحے پر دیکھیں۔
اس سیریز کی بڑی اہمیت ہے۔ سلو اوور ریٹ پر پوائنٹس کٹنے کے بعد پاکستان اس سیریز سے پہلے ڈبلیو ٹی سی پوائنٹس ٹیبل میں 4.63 فیصد کے ساتھ 9 ٹیموں میں نویں نمبر پر تھا۔ دو ہوم جیت سے پاکستان اوپر جائے گا، مگر پہلی دو ٹیموں کے قریب نہیں پہنچے گا۔
میچ دیکھنے کے لیے ہمارا صفحہ پہلا ٹیسٹ کہاں دیکھیں پڑھیں، اور ٹکٹوں کے لیے راولپنڈی ٹیسٹ کے ٹکٹ کا صفحہ دیکھیں۔
فارغ ہونے والے کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ میں واپس جا سکتے ہیں
جب ٹیسٹ اسکواڈ پہلی بار چنا گیا تو علی عثمان اور عبداللہ فضل قائداعظم ٹرافی کے اسکواڈز میں ریزرو کھلاڑی تھے۔ ٹرافی کا دوسرا راؤنڈ بھی 9 نومبر کو، یعنی ٹیسٹ والے دن ہی شروع ہو رہا ہے۔
ہم نے پی سی بی کا کوئی ایسا نوٹس نہیں دیکھا جس میں لکھا ہو کہ دونوں دوسرا راؤنڈ کھیلیں گے۔ اگر کھیلے تو 2 نومبر کو جاری پی سی بی کی فہرستوں کے مطابق علی عثمان ملتان اور عبداللہ فضل کراچی بلوز کی طرف سے کھیلیں گے۔ میچوں اور مقامات کی فہرست ہمارے قائداعظم ٹرافی راؤنڈ 2 کے صفحے پر ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سری لنکا کے خلاف پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ میں کون شامل ہوا؟
عامر جمال، علی شبیر، ثاقب خان اور محمد طیب عارف۔ آئی سی سی نے یہ خبر 7 نومبر 2026 کو دی۔
پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ سے کسے فارغ کیا گیا؟
لیفٹ آرم اسپنر علی عثمان اور بیٹر عبداللہ فضل کو۔
پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ میں اب کتنے کھلاڑی ہیں؟
16 کھلاڑی، جن کے کپتان بابر اعظم ہیں۔ ہر ٹیسٹ میں صرف 11 کھلاڑی کھیلیں گے۔
کیا عامر جمال پہلے ٹیسٹ کرکٹ کھیل چکے ہیں؟
جی ہاں۔ وہ پاکستان کے لیے 9 ٹیسٹ، 3 ون ڈے اور 6 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل چکے ہیں۔
سری لنکا کے خلاف پہلا ٹیسٹ کب شروع ہوگا؟
پیر 9 نومبر 2026 کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں۔ یہ میچ 13 نومبر تک چلے گا۔
علی شبیر کی عمر کتنی ہے؟
آئی سی سی کے مطابق وہ 19 سال کے ہیں اور 8 فرسٹ کلاس میچوں میں 22 وکٹیں لے چکے ہیں۔
آخری جانچ اور ذرائع
ہم نے 8 نومبر 2026 کو پاکستان کے نئے ٹیسٹ اسکواڈ پر آئی سی سی کی رپورٹ پڑھی۔ پہلے 14 نام 24 اکتوبر کی پی سی بی ریلیز سے ہیں، جو ہمارے پہلے اسکواڈ والے صفحے پر درج ہے۔ پی سی بی کی ویب سائٹ نے 7 اور 8 نومبر کو ہمارا کنکشن قبول نہیں کیا، اس لیے ہم اس تبدیلی کا پی سی بی کا اپنا نوٹس یا وارم اپ میچ کا اسکور کارڈ نہیں پڑھ سکے۔
لکھاری کے بارے میں

