پاکستان میں انتخاب کیسے لڑیں: عمر 25 سال، 30,000 روپے فیس، کاغذات نامزدگی اور خرچ کی حد
پاکستان میں قومی یا صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کی شرائط: عمر 25 سال، فارم A، فیس 30,000 اور 20,000 روپے جو واپس نہیں ملتی، اور خرچ کی حد 1 کروڑ اور 40 لاکھ۔

پاکستان میں قومی یا صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لیے آپ کا پاکستانی شہری ہونا، کم از کم 25 سال عمر اور ووٹر لسٹ میں نام ہونا ضروری ہے۔ کاغذات نامزدگی فارم A پر جمع ہوتے ہیں، جس پر حلقے کے ایک تجویز کنندہ اور ایک تائید کنندہ کے دستخط ہوتے ہیں۔ قومی اسمبلی کی فیس 30,000 روپے اور صوبائی اسمبلی کی 20,000 روپے ہے، جو واپس نہیں ملتی۔ خرچ کی حد قومی اسمبلی کے لیے 1 کروڑ اور صوبائی کے لیے 40 لاکھ روپے ہے۔
آج 8 نومبر 2026 کو NA-77 گوجرانوالہ-I کے ضمنی انتخاب میں 11 امیدوار ہیں اور PP-203 ساہیوال-VI میں 7۔ ان میں زیادہ تر آزاد امیدوار ہیں۔ ہر امیدوار انہی مراحل سے گزرا، کاغذات نامزدگی سے لے کر بیلٹ پر انتخابی نشان تک۔
ہم نے 8 نومبر 2026 کو الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعات 60 سے 68 اور 132، الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کی ویب سائٹ والی کاپی میں خود پڑھیں۔ آئین کے آرٹیکل 62، 63 اور 113 قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر آئین کی کاپی سے ہیں۔ یہ گائیڈ شرائط، فیس اور حدیں ایک جگہ بتاتی ہے۔

عمر 25 سال، پاکستانی شہریت اور ووٹر ہونا ضروری ہے
آئین کا آرٹیکل 62 قومی اسمبلی کی اہلیت بتاتا ہے۔ آپ پاکستان کے شہری ہوں اور عمر کم از کم 25 سال ہو۔ عام نشست کے لیے پاکستان میں کہیں بھی ووٹر لسٹ میں آپ کا نام ہونا چاہیے۔
یعنی جس حلقے سے آپ انتخاب لڑ رہے ہیں، وہاں کا ووٹر ہونا ضروری نہیں۔ لاہور کا ووٹر گوجرانوالہ سے انتخاب لڑ سکتا ہے۔ البتہ تجویز کنندہ اور تائید کنندہ اسی حلقے کے ووٹر ہونے چاہییں۔
آرٹیکل 113 یہی شرائط صوبائی اسمبلیوں پر لاگو کرتا ہے۔ سینیٹ کے لیے عمر کم از کم 30 سال ہے۔ آرٹیکل 62 میں کردار کی شرائط بھی ہیں، جیسے "صادق اور امین" ہونا۔
آرٹیکل 63 بتاتا ہے کہ کون نااہل ہے
آرٹیکل 63 نااہلی کی وجوہات بتاتا ہے۔ یہ وہ وجوہات ہیں جن پر امیدوار اکثر پکڑے جاتے ہیں۔ ہر ایک پر جانچ پڑتال کے وقت اعتراض ہو سکتا ہے:
- عدالت کی طرف سے ذہنی طور پر معذور قرار دیا جانا۔
- دیوالیہ قرار دیا جانا اور اس سے بری نہ ہونا۔
- پاکستان کی شہریت چھوڑ دینا یا کسی دوسرے ملک کی شہریت لے لینا۔
- سرکاری ملازمت میں منافع بخش عہدے پر ہونا۔
- بعض جرائم میں سزا، اور سرکاری ملازمت سے برطرفی، مقررہ مدت کے لیے۔
بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے دوہری شہریت کا اصول اہم ہے۔ آرٹیکل 63(1)(c) کے تحت دوسرے ملک کی شہریت نااہلی ہے۔
کاغذات نامزدگی 6 مراحل میں جمع کروائیں
دفعہ 60 بتاتی ہے کہ کاغذات میں کیا ہو اور ساتھ کیا لگے۔ کاغذات ریٹرننگ آفیسر لیتا ہے، یعنی وہ افسر جو حلقے کا انتخاب چلاتا ہے۔
- حلقے کے ووٹروں میں سے ایک تجویز کنندہ (proposer) اور ایک تائید کنندہ (seconder) تلاش کریں۔ ہر ووٹر صرف ایک کاغذ کی حمایت کر سکتا ہے۔
- فارم A بھریں اور اس پر دونوں کے دستخط کروائیں۔
- یہ حلف نامہ دیں کہ آپ آرٹیکل 62 پر پورے اترتے ہیں اور آرٹیکل 63 کے تحت نااہل نہیں۔
- انتخابی خرچ کے لیے الگ بینک اکاؤنٹ کھولیں یا کوئی موجودہ اکاؤنٹ مخصوص کریں، اور شیڈول سے 7 دن پہلے سے اس کی اسٹیٹمنٹ لگائیں۔
- شناختی کارڈ کی تصدیق شدہ کاپی اور فارم B پر اپنے، شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کا گوشوارہ لگائیں۔
- فیس جمع کروائیں اور کاغذات خود، تجویز یا تائید کنندہ کے ذریعے، یا تحریری طور پر مجاز شخص کے ذریعے ریٹرننگ آفیسر کو دیں۔
ایک ہی حلقے میں آپ کے لیے زیادہ سے زیادہ 5 کاغذات نامزدگی جمع ہو سکتے ہیں۔ بہت سے امیدوار ایک سے زیادہ کاغذ جمع کرواتے ہیں تاکہ ایک مسترد ہو تو بھی بات ختم نہ ہو۔ فیس صرف ایک بار دینی ہوتی ہے۔
فیس 30,000 یا 20,000 روپے ہے اور واپس نہیں ملتی
دفعہ 61 فیس طے کرتی ہے۔ یہ ریٹرننگ آفیسر کو نقد، اس کے نام بینک ڈرافٹ سے، یا نیشنل بینک آف پاکستان کے مخصوص اکاؤنٹ میں جمع کروا کر رسید دکھا کر دی جا سکتی ہے۔
| نکتہ | قومی اسمبلی | صوبائی اسمبلی |
|---|---|---|
| کم از کم عمر | 25 سال | 25 سال |
| کاغذات نامزدگی کی فیس | 30,000 روپے | 20,000 روپے |
| فیس واپس ملتی ہے؟ | نہیں | نہیں |
| خرچ کی حد | 1 کروڑ روپے | 40 لاکھ روپے |
| زیادہ سے زیادہ کاغذات | 5 | 5 |
اگست 2023 میں ترمیم کے بعد دفعہ 61(3) کہتی ہے کہ فیس واپس نہیں ہوگی۔ امیدوار جیتے یا ہارے، اس سے فرق نہیں پڑتا۔
اس کے بعد جانچ پڑتال، اپیل، دستبرداری اور انتخابی نشان
کاغذات جمع ہونے کے بعد چار مراحل آتے ہیں۔ ہر مرحلے کی تاریخ اس نشست کے لیے ECP کے انتخابی شیڈول میں ہوتی ہے۔

- جانچ پڑتال (دفعہ 62): حلقے کا کوئی بھی ووٹر کسی امیدوار کے کاغذات پر اعتراض کر سکتا ہے۔ ریٹرننگ آفیسر کاغذات منظور یا مسترد کرتا ہے۔
- اپیل (دفعہ 63): امیدوار یا اعتراض کرنے والا اپیلیٹ ٹربیونل میں اپیل کر سکتا ہے، جو ہائی کورٹ کا جج ہوتا ہے۔ اس کا حکم حتمی ہوتا ہے۔
- دستبرداری (دفعہ 65): امیدوار مقررہ تاریخ تک ریٹرننگ آفیسر کو دستخط شدہ نوٹس دے کر دستبردار ہو سکتا ہے۔ یہ فیصلہ واپس نہیں ہو سکتا۔
- انتخابی نشان (دفعہ 67): ریٹرننگ آفیسر ہر امیدوار کو نشان دیتا ہے، اور جماعت کے امیدوار کو جماعت کا نشان ملتا ہے۔ حتمی فہرست فارم 33 پر شائع ہوتی ہے۔
NA-77 اور PP-203 کی فارم 33 فہرستیں، ہر نشان کے ساتھ، ہمارے صفحے 8 نومبر کے ضمنی انتخاب پر ہیں۔
خرچ کی حد ہے اور ہر رقم کا ثبوت رکھنا ہوتا ہے
دفعہ 132 انتخابی خرچ کی حد لگاتی ہے: قومی اسمبلی کے لیے 1 کروڑ روپے، صوبائی اسمبلی کے لیے 40 لاکھ روپے اور سینیٹ کے لیے 15 لاکھ روپے۔ اگر کوئی جماعت یا حامی آپ کی طرف سے خرچ کرے تو وہ بھی آپ کا خرچ مانا جاتا ہے۔
دفعہ کے مطابق 1,000 روپے یا اس سے زیادہ کی ہر ادائیگی کا بل یا رسید رکھنا ضروری ہے۔ خرچ کے قوانین توڑنا غیر قانونی عمل ہے، جس کی تفصیل ہمارے صفحے انتخابی جرائم اور سزائیں پر ہے۔
جیتنے کے بعد ہر سال اثاثوں کا گوشوارہ جمع کروانا ہوتا ہے۔ اس کی تفصیل ہمارے صفحے 31 دسمبر کی آخری تاریخ پر ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پاکستان میں انتخاب لڑنے کی کم از کم عمر کیا ہے؟
آئین کے آرٹیکل 62 اور 113 کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے 25 سال۔ سینیٹ کے لیے 30 سال۔
قومی اسمبلی کے کاغذات نامزدگی کی فیس کتنی ہے؟
الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 61 کے مطابق 30,000 روپے۔ صوبائی اسمبلی کے لیے 20,000 روپے۔
کیا کاغذات نامزدگی کی فیس واپس ملتی ہے؟
نہیں۔ 2023 کی ترمیم کے بعد دفعہ 61(3) کہتی ہے کہ فیس ناقابل واپسی ہے۔
کیا میں اس حلقے سے انتخاب لڑ سکتا ہوں جہاں میرا ووٹ نہیں؟
جی ہاں، عام نشست کے لیے، اگر آپ پاکستان میں کہیں ووٹر ہیں۔ تجویز اور تائید کنندہ اسی حلقے کے ووٹر ہونے چاہییں۔
کیا دوہری شہریت والا پاکستان میں انتخاب لڑ سکتا ہے؟
نہیں۔ آرٹیکل 63(1)(c) دوسرے ملک کی شہریت لینے والے کو نااہل قرار دیتا ہے۔
آخری بار چیک کیا گیا اور ذرائع
آخری بار 8 نومبر 2026 کو چیک کیا گیا۔ الیکشنز ایکٹ 2017 (5 اگست 2023 تک ترمیم شدہ) کی دفعات 60 سے 68 اور 132 ہم نے ECP کے الیکشن قوانین صفحے پر پڑھیں۔ آئین کے آرٹیکل 62، 63 اور 113 قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر آئین کی کاپی سے ہیں، جو 2012 تک مجموعی ہے۔ بعد کی ترامیم چیک نہیں کی گئیں۔
لکھاری کے بارے میں

