مواد پر جائیں
Pakistan Era logoاردو

الیکشن کمیشن: ارکان اسمبلی کے اثاثوں کے گوشوارے کی آخری تاریخ 31 دسمبر 2026، 16 جنوری سے رکنیت معطل

ارکان قومی و صوبائی اسمبلی 2025-26 کے اثاثوں کے گوشوارے 31 دسمبر 2026 تک ECP میں جمع کرائیں۔ 1 جنوری کو نام شائع ہوں گے اور 16 جنوری سے رکنیت معطل ہوگی۔

Hassan Raza, author at Pakistan Eraتحریر: حسن رضا5 منٹ کی پڑھائی
پارلیمنٹ کے پرسکون ایوان میں سبز چمڑے کی خالی نشستیں، ارکان اسمبلی کے اثاثوں کے گوشواروں کی آخری تاریخ کے لیے

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے لیے 2025-26 کے اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر 2026 مقرر کی ہے۔ دیر کرنے والوں کے نام 1 جنوری 2027 کو عام کیے جائیں گے۔ جس رکن نے 15 جنوری تک بھی جمع نہ کرایا، اس کی رکنیت 16 جنوری سے معطل ہو جائے گی۔

اس قاعدے کی وجہ سے ووٹر اپنے رکن کے بارے میں ایک سادہ سوال پوچھ سکتا ہے: کیا اس نے وقت پر گوشوارہ جمع کرایا؟ اس کا جواب جنوری کے پہلے ہفتے میں نام کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔

7 نومبر 2026 کو ہم نے الیکشن کمیشن کی 6 نومبر کی پریس ریلیز پڑھی۔ 2025-26 کے گوشواروں پر یہ اس کی چوتھی ریلیز ہے۔ ہم نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کا جاری کردہ یہی متن بھی پڑھا۔

ہر رکن کو 31 دسمبر 2026 تک Form-B جمع کرانا ہے

گوشوارہ Form-B پر ہونا چاہیے اور مالی سال 2025-26 کا ہونا چاہیے۔ اس میں رکن، اس کے شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کے اثاثے اور واجبات درج ہوتے ہیں، جیسے وہ 30 جون کو تھے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق یہ ذمہ داری الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 سے آتی ہے۔

یہ ریلیز پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے لیے ہے۔ واجبات کا مطلب ہے جو کچھ رکن کے ذمے باقی ہو، جیسے قرض۔ زیر کفالت بچہ وہ ہے جس کا خرچ رکن اٹھاتا ہو۔

تاریخکیا ہوگا
30 جون 2026وہ تاریخ جس کی صورتحال گوشوارے میں لکھی جاتی ہے
31 دسمبر 2026الیکشن کمیشن میں Form-B جمع کرانے کی آخری تاریخ
1 جنوری 2027الیکشن کمیشن پریس ریلیز میں گوشوارہ نہ دینے والے ارکان کے نام شائع کرے گا
15 جنوری 2027معطلی سے پہلے آخری موقع
16 جنوری 2027الیکشن کمیشن حکم کے ذریعے باقی رہ جانے والوں کی رکنیت معطل کرے گا
الیکشن کمیشن کے اثاثوں کے گوشوارے کی تاریخیں: 31 دسمبر 2026 تک جمع کرائیں، 1 جنوری کو نام شائع، 16 جنوری 2027 سے معطلی

معطل رکن گوشوارہ جمع کرانے تک رکن کے طور پر کام نہیں کر سکتا

الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ وہ 16 جنوری کو حکم جاری کر کے گوشوارہ نہ دینے والے رکن کو معطل کرے گا۔ معطلی اس وقت تک رہے گی جب تک گوشوارہ جمع نہیں ہو جاتا۔ اس دوران وہ رکن کے طور پر کام نہیں کر سکتا۔

ریلیز میں معطلی کی بات ہے، نشست ختم ہونے کی نہیں۔ ووٹروں کے لیے یہ اس لیے اہم ہے کہ جب تک حکم برقرار ہے، معطل رکن اپنے حلقے کے لیے کام نہیں کر سکتا۔

2025-26 کے گوشواروں پر یہ الیکشن کمیشن کی چوتھی پریس ریلیز ہے، اور یہ آخری تاریخ سے تقریباً 8 ہفتے پہلے آئی ہے۔

غلط گوشوارے پر بدعنوانی کا مقدمہ بن سکتا ہے

الیکشن کمیشن کے مطابق اگر کوئی گوشوارہ اہم باتوں میں غلط نکلے تو بدعنوانی (corrupt practice) کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ یہ کارروائی گوشوارہ جمع ہونے کے 120 دن کے اندر شروع ہو سکتی ہے۔ "اہم باتوں" سے مراد وہ حقائق ہیں جو معنی رکھتے ہیں، جیسے چھپائی ہوئی جائیداد یا بینک بیلنس۔

120 دن کی یہ مدت وہ بات ہے جو بہت سے لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جو گوشوارہ آخری دن یعنی 31 دسمبر 2026 کو جمع ہو، اس کے لیے یہ مدت ہمارے حساب سے اپریل 2027 کے آخر تک چلے گی۔ ریلیز میں یہ آخری تاریخ نہیں دی گئی۔

صورتحالالیکشن کمیشن کا بتایا ہوا نتیجہ
31 دسمبر تک جمع نہیں کرایا1 جنوری کو نام شائع ہوگا
15 جنوری تک جمع نہیں کرایا16 جنوری کو رکنیت معطل ہوگی
جمع کرایا، بعد میں اہم باتوں میں غلط نکلاجمع ہونے کے 120 دن کے اندر بدعنوانی کی کارروائی
الیکشن کمیشن کے مطابق دیر سے یا غلط گوشوارہ دینے والے ارکان کے ساتھ کیا ہوگا

اپنے رکن کے بارے میں 4 مرحلوں میں معلوم کریں

اس کے لیے آپ کو وکیل یا کسی جان پہچان کی ضرورت نہیں۔ گوشوارہ نہ دینے والوں کی فہرست الیکشن کمیشن کی عوامی پریس ریلیز میں آتی ہے۔ آپ کو صرف اپنے رکن کا نام اور حلقہ چاہیے۔ پہلے مرحلے کے لیے ہماری گائیڈ اپنا رکن قومی اسمبلی تلاش کریں دیکھیں۔

  1. اپنے رکن قومی یا صوبائی اسمبلی کا پورا نام اور حلقہ معلوم کریں۔
  2. 1 جنوری 2027 یا اس کے بعد الیکشن کمیشن کا پریس ریلیز صفحہ کھولیں۔
  3. وہ ریلیز تلاش کریں جس میں 2025-26 کا گوشوارہ نہ دینے والے ارکان کی فہرست ہو، پھر اس میں اپنے رکن کا نام دیکھیں۔
  4. 16 جنوری کے بعد معطلی کے حکم کے لیے دوبارہ دیکھیں۔
یہ معلوم کرنے کے 4 مرحلے کہ آپ کے رکن اسمبلی نے الیکشن کمیشن میں اثاثوں کا گوشوارہ دیا یا نہیں

1 جنوری کی فہرست میں نام آنے کا مطلب یہ نہیں کہ رکن نے کچھ چھپایا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ فارم وقت پر الیکشن کمیشن تک نہیں پہنچا۔ قاعدے میں معطلی سے پہلے 15 جنوری تک کا وقت ہے۔

فارم کہاں سے ملتا ہے اور ہمیں کیا نہیں ملا

Form-B مفت ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق یہ اسلام آباد میں اس کے سیکریٹریٹ، صوبائی الیکشن کمشنروں کے دفاتر، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ، صوبائی اسمبلیوں کے سیکریٹریٹ اور الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

جمع شدہ گوشوارے الگ معاملہ ہیں۔ ریلیز میں نہیں بتایا گیا کہ ووٹر انہیں کہاں پڑھ سکتا ہے۔ ہم نے الیکشن کمیشن کا Downloads صفحہ دیکھا اور وہاں خالی Form-B کا لنک ملا۔ ہمیں وہاں جمع شدہ گوشواروں کا سال وار حصہ نہیں ملا۔ اگر آپ کوئی جمع شدہ گوشوارہ دیکھنا چاہتے ہیں تو الیکشن کمیشن کے دفتر سے 051-9205611 پر براہ راست پوچھیں۔

یہ قاعدہ منتخب ارکان کے لیے ہے۔ آپ کا اپنا ویلتھ اسٹیٹمنٹ ٹیکس آفس میں جاتا ہے، جیسا کہ ہماری گائیڈ بیوی اور بچوں کے اثاثے ظاہر کرنے کا طریقہ میں بتایا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کا قاعدہ الگ ہے، جو FBR کے اثاثہ ڈیکلریشن پورٹل والے صفحے پر ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

ارکان اسمبلی کے لیے اثاثے جمع کرانے کی آخری تاریخ کیا ہے؟

مالی سال 2025-26 کے لیے 31 دسمبر 2026، Form-B پر۔ یہ بات الیکشن کمیشن کی 6 نومبر کی ریلیز میں ہے۔

اگر کوئی رکن گوشوارہ جمع نہ کرائے تو کیا ہوگا؟

الیکشن کمیشن 1 جنوری کو اس کا نام شائع کرے گا۔ اگر 15 جنوری تک بھی جمع نہ کرایا تو 16 جنوری کو رکنیت معطل ہو جائے گی، اور گوشوارہ جمع ہونے تک معطل رہے گی۔

کن لوگوں کے اثاثے ظاہر کرنے ہوتے ہیں؟

رکن کے اپنے، اور اس کے شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کے، جیسے وہ 30 جون کو تھے۔

یہ کس قانون کے تحت ہے؟

الیکشن کمیشن الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کا حوالہ دیتا ہے۔

اگر رکن فارم پر غلط بیانی کرے تو کیا ہوگا؟

جو گوشوارہ اہم باتوں میں غلط نکلے، اس پر جمع ہونے کے 120 دن کے اندر بدعنوانی کی کارروائی ہو سکتی ہے۔

Form-B کہاں سے ملے گا؟

الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ، اس کے دفاتر اور اسمبلیوں کے سیکریٹریٹ سے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق یہ مفت ہے۔

آخری بار کب چیک کیا اور ذرائع

آخری بار 7 نومبر 2026 کو چیک کیا۔ ہم نے الیکشن کمیشن کی چوتھی پریس ریلیز اور پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی ریلیز نمبر 68 پڑھی۔ دونوں 6 نومبر 2026 کی ہیں۔ ہم نے دفعہ 137 کا اصل متن نہیں پڑھا۔ ہم نے اسے اسی طرح لکھا ہے جیسے الیکشن کمیشن بیان کرتا ہے۔

لکھاری کے بارے میں

Hassan Raza, author at Pakistan Era

حسن رضا

Urdu Politics & Public Affairs Journalist

حسن رضا کی تمام تحریریں