پنجاب میں سپر سیڈر کرائے پر لینے کے لیے 5,000 روپے فی ایکڑ سبسڈی کیسے لیں
پنجاب میں پرالی جلانے کے بجائے سپر سیڈر چلوائیں اور 5,000 روپے فی ایکڑ، 25,000 روپے تک سبسڈی لیں۔ 23 اضلاع، PCAP پورٹل پر بکنگ کا طریقہ اور ہیلپ لائن۔

فوری جواب: پنجاب حکومت چاول کے کاشتکاروں کو پرالی جلانے کے بجائے سپر سیڈر کرائے پر لینے کے لیے 5,000 روپے فی ایکڑ دے رہی ہے، زیادہ سے زیادہ 25,000 روپے۔ رجسٹریشن اور مشین کی بکنگ محکمہ زراعت کے پورٹل kissanmadadgar.agrimech.gop.pk یا اس کی Android ایپ "PCAP Rental Services" پر ہوتی ہے۔ یہ سہولت اس سیزن 23 اضلاع کے لیے ہے۔
محکمہ زراعت پنجاب نے 2 اکتوبر 2026 کی پریس ریلیز میں پنجاب کلین ایئر پروگرام کے تحت آن لائن رجسٹریشن کا اعلان کیا تھا۔ ہم نے 7 نومبر 2026 کو یہ پورٹل دوبارہ کھولا۔ اس پر اب بھی لکھا ہے: "سپر سیڈر چلوائیں اور 5,000 روپے فی ایکڑ سبسڈی حاصل کریں"۔
ایک ضروری بات پہلے۔ پریس ریلیز میں ویب ایڈریس غلط چھپا ہے، "agrimec" لکھا ہے۔ وہ ایڈریس نہیں کھلتا، ہم نے 7 نومبر کو بھی آزمایا۔ صحیح ایڈریس agrimech ہے، آخر میں h کے ساتھ، اور یہ کھلتا ہے۔
سپر سیڈر استعمال کرنے پر 5,000 روپے فی ایکڑ، 25,000 روپے تک
یہ سبسڈی کرائے کا کچھ حصہ ادا کرتی ہے، جب چاول کا کاشتکار دھان کے کھیت میں سیدھی گندم بونے کے لیے سپر سیڈر کرائے پر لیتا ہے۔ ریٹ 5,000 روپے فی ایکڑ ہے، اور حد 25,000 روپے۔ ہمارے حساب سے یہ حد ایک کاشتکار کے 5 ایکڑ بنتی ہے۔
سپر سیڈر ٹریکٹر کے پیچھے لگنے والی مشین ہے۔ یہ ایک ہی چکر میں دھان کی پرالی کاٹتی ہے، اسے مٹی میں ملاتی ہے اور گندم کو قطاروں میں بوتی ہے۔ کھاد بیج کے قریب ڈلتی ہے۔ محکمہ کہتا ہے کہ اس سے زمین کی الگ تیاری کا خرچ بچتا ہے اور پرالی کو آگ نہیں لگانی پڑتی۔
| بات | سرکاری ذرائع کیا کہتے ہیں |
|---|---|
| پروگرام | پنجاب کلین ایئر پروگرام (PCAP) |
| کس کے لیے | 23 اضلاع کے چاول کے کاشتکار |
| سبسڈی | 5,000 روپے فی ایکڑ، زیادہ سے زیادہ 25,000 روپے |
| کس کام پر | دھان کے کھیت میں سپر سیڈر چلوانے پر |
| رجسٹریشن کہاں | kissanmadadgar.agrimech.gop.pk یا PCAP Rental Services ایپ |
| ہیلپ لائن | زراعت ہیلپ لائن 0800-17000 |
سبسڈی 23 چاول والے اضلاع کے لیے ہے
2 اکتوبر کی پریس ریلیز میں یہ اضلاع لکھے ہیں۔ اگر آپ کا ضلع فہرست میں نہیں، تو اس سیزن وہاں یہ سبسڈی نہیں۔
- فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور چنیوٹ
- گجرات، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد اور وزیر آباد
- گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب
- لاہور، قصور، اوکاڑہ، ساہیوال اور پاکپتن
- ملتان، لودھراں، خانیوال، وہاڑی اور بہاولنگر
یہ چاول کی اصل پٹی ہے، اور یہی وہ اضلاع ہیں جہاں اکتوبر اور نومبر میں پرالی جلانے کا دھواں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسکیم کا مقصد یہی دھواں روکنا ہے۔
سپر سیڈر بک کرنے اور سبسڈی لینے کا طریقہ
پورٹل ایک بکنگ ویب سائٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ مشین کے مالک اپنے سپر سیڈر اس پر لگاتے ہیں، اور کاشتکار کسی تاریخ کے لیے بک کرتے ہیں۔ پورٹل کے مطابق اس کے بعد تصدیق شدہ آپریٹر کھیت پر آتا ہے۔ پورٹل پر تین مرحلے لکھے ہیں: مشین تلاش کریں، تاریخ چنیں، اور کھیت میں کام شروع۔
- kissanmadadgar.agrimech.gop.pk کھولیں، یا Google Play سے "PCAP Rental Services" ایپ انسٹال کریں۔
- لاگ ان صفحے سے کاشتکار کے طور پر سائن اپ کریں۔ اپنا شناختی کارڈ اور اپنے نام کا موبائل نمبر تیار رکھیں۔
- اپنے گاؤں یا تحصیل کے قریب سپر سیڈر تلاش کریں۔
- دن، وقت اور ایکڑ چنیں اور بکنگ کی درخواست بھیجیں۔
- آپریٹر کو کھیت میں بوائی کرنے دیں، اور بکنگ کا ریکارڈ فون میں سنبھال کر رکھیں۔
- بکنگ یا سبسڈی میں مسئلہ ہو تو شناختی کارڈ کے ساتھ 0800-17000 پر کال کریں۔
پورٹل اور پریس ریلیز یہ نہیں بتاتے کہ 5,000 روپے آپ تک کیسے پہنچیں گے، کرائے میں رعایت کی صورت میں یا بعد میں ادائیگی کی صورت میں۔ مشین چلنے سے پہلے آپریٹر اور ہیلپ لائن سے پوچھ لیں، تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ کتنا کرایہ دیں گے۔
جلدی بک کریں۔ نہری زمین پر گندم کی بوائی زیادہ تر نومبر میں ہوتی ہے، اور پنجاب میں گندم کی بوائی کی تاریخیں بتاتی ہیں کہ بہترین وقت چھوٹا ہے۔ گاؤں کا ہر کاشتکار انہی دو ہفتوں میں مشین چاہتا ہے۔
مشین کے مالک اپنا سپر سیڈر مفت رجسٹر کر سکتے ہیں
پورٹل کا دوسرا حصہ مشین مالکان کے لیے ہے۔ جس کے پاس سپر سیڈر، ہیپی سیڈر، بیلر یا کوئی اور ماحول دوست زرعی مشین ہے، وہ اسے بطور فرم رجسٹر کروا سکتا ہے۔ پورٹل کہتا ہے کہ رجسٹریشن مفت ہے، ادائیگی کا نظام شفاف ہے، اور رجسٹرڈ فرموں کو خودکار بکنگ ملتی ہے۔
جس کاشتکار نے پچھلی کسی سبسڈی پر سپر سیڈر خریدا تھا، اس کے لیے اس سیزن کرایہ کمانے کا یہ ایک موقع ہے۔ پورٹل یہ نہیں بتاتا کہ فرمیں کتنا کرایہ لے سکتی ہیں، اس لیے بکنگ میں قیمت طے کر لیں۔
پنجاب میں پرالی جلانا قابل سزا جرم ہے
محکمہ زراعت نے 5 اکتوبر 2026 کو دہرایا کہ چاول کی باقیات جلانا پنجاب کے قانون کے تحت قابل سزا جرم ہے، اور ایسا کرنے والے کاشتکاروں کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ آگ لگانے سے مٹی کا نامیاتی مادہ بھی ختم ہوتا ہے اور اسموگ بڑھتی ہے۔
محکمہ پرالی کو آگ کے بغیر ختم کرنے کے تین طریقے بتاتا ہے:
| طریقہ | کب استعمال کریں |
|---|---|
| سپر سیڈر | پرالی میں سیدھی گندم بوئیں، 5,000 روپے فی ایکڑ سبسڈی کے ساتھ |
| روٹاویٹر | ہاتھ سے کٹائی کے بعد، باقیات مٹی میں ملانے کے لیے |
| ڈسک ہیرو، یا ہل کے ساتھ آدھی بوری یوریا فی ایکڑ اور پانی | مشین سے کٹائی کے بعد، تاکہ باقیات کھیت میں گل جائیں |
جرمانے اور جلتے کھیت کی شکایت کا طریقہ ہمارے پنجاب میں فصل جلانے کے قوانین والے صفحے پر ہے۔ اسموگ والے دن پنجاب کی فضا کا حال ہمارے 7 نومبر کے AQI والے صفحے پر دیکھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پنجاب میں سپر سیڈر سبسڈی کتنی ہے؟
5,000 روپے فی ایکڑ، ایک کاشتکار کے لیے زیادہ سے زیادہ 25,000 روپے، پنجاب کلین ایئر پروگرام کے تحت۔
سپر سیڈر سبسڈی کے لیے رجسٹریشن کہاں ہوتی ہے؟
kissanmadadgar.agrimech.gop.pk یا PCAP Rental Services ایپ پر۔ پریس ریلیز والا "agrimec" ایڈریس نہیں کھلتا۔
کن اضلاع کو سپر سیڈر سبسڈی ملے گی؟
چاول والے 23 اضلاع کو، جن میں گوجرانوالہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ، لاہور، قصور، اوکاڑہ، فیصل آباد اور ملتان شامل ہیں۔
کیا پنجاب میں پرالی جلانا غیر قانونی ہے؟
جی ہاں۔ محکمہ زراعت کہتا ہے کہ یہ قابل سزا جرم ہے اور کارروائی ہو سکتی ہے۔
کیا میں اپنا سپر سیڈر کرائے پر دے سکتا ہوں؟
جی ہاں۔ مالک اسی پورٹل پر اپنی مشین بطور فرم مفت رجسٹر کروا سکتے ہیں۔
سبسڈی کی رقم کیسے ملے گی؟
پورٹل اور پریس ریلیز میں یہ نہیں لکھا۔ مشین چلنے سے پہلے آپریٹر اور 0800-17000 ہیلپ لائن سے پوچھ لیں۔
آخری جانچ اور ذرائع
آخری جانچ 7 نومبر 2026، جب ہم نے پورٹل دوبارہ کھولا۔ سبسڈی کی رقم، اضلاع اور رجسٹریشن کا ایڈریس محکمہ زراعت پنجاب کی 2 اکتوبر 2026 کی اردو پریس ریلیز سے ہیں، اور پرالی جلانے کی سزا 5 اکتوبر کی پریس ریلیز سے، جو ہماری ٹیم نے 10 اکتوبر کو پڑھیں۔
سبسڈی کی ادائیگی کا طریقہ اور آخری تاریخ دونوں صفحات پر نہیں لکھی۔ محکمہ یہ تفصیل جاری کرے گا تو ہم یہ صفحہ اپ ڈیٹ کریں گے۔ کسان کارڈ رکھنے والے کسان کارڈ قرعہ اندازی کا نتیجہ بھی دیکھیں۔
لکھاری کے بارے میں

