مواد پر جائیں
Pakistan Era logoاردو
گائیڈزRead in English

برطانیہ کا نیا فحش مواد قانون 6 نومبر 2026 سے: کیا غیر قانونی ہے اور پاکستانیوں کے ویزا کو کیا خطرہ

6 نومبر 2026 سے انگلینڈ اور ویلز میں فحش مواد کی 3 قسمیں رکھنا جرم ہے۔ کیا قانونی ہے، واٹس ایپ گروپ کا خطرہ، اور کب ویزا یا ملک بدری کا خطرہ ہوتا ہے۔

Hamza Nadeem, author at Pakistan Eraتحریر: حمزہ ندیم11 منٹ کی پڑھائی
اسٹوڈنٹ کمرے میں لکڑی کی میز پر الٹا رکھا اسمارٹ فون اور بند لیپ ٹاپ، برطانیہ کے نئے فحش مواد قانون کی گائیڈ کے لیے

مختصر جواب: 6 نومبر 2026 سے انگلینڈ اور ویلز میں فحش مواد (پورنوگرافی) کی تین مزید قسمیں اپنے پاس رکھنا یا آگے بھیجنا جرم ہے: گلا دبانے یا دم گھونٹنے کے مناظر، رشتہ داروں کے درمیان جنسی عمل، اور ایسا مواد جس میں کوئی 16 سال سے کم عمر ہو یا ایسا ظاہر کیا جائے۔ بالغوں کے لیے قانونی مواد اب بھی قانونی ہے، اور اسے دیکھنے سے ویزا پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ویزا کو خطرہ سزا سے ہوتا ہے، اور 12 ماہ یا زیادہ قید پر ملک بدری (ڈی پورٹیشن) لازمی ہو جاتی ہے۔

یہ تبدیلی Crime and Policing Act 2026 سے آئی ہے، جسے 29 اپریل 2026 کو شاہی منظوری ملی۔ فحش مواد سے متعلق دفعات ایک الگ سرکاری حکم (Commencement No. 4 Regulations 2026) کے ذریعے 6 نومبر 2026 سے نافذ ہوئیں۔ ہم نے 6 نومبر 2026 کو legislation.gov.uk اور GOV.UK پر قانون کا متن، وزارت انصاف کی رہنمائی، امیگریشن رولز اور UK Borders Act پڑھے۔

یہ صفحہ برطانیہ میں رہنے والے پاکستانی طلبہ، ملازمین اور خاندانوں کے لیے ہے۔ یہ قانونی مشورہ نہیں۔ پولیس رابطہ کرے تو کسی وکیل (سولیسٹر) سے بات کریں۔ مزید تفصیل ہماری انگریزی گائیڈ میں ہے۔

6 نومبر 2026 سے تین نئے جرم نافذ ہوئے

تین قسم کا مواد اب صرف بنانا یا بھیجنا نہیں، بلکہ اپنے فون یا کمپیوٹر میں رکھنا بھی جرم ہے۔ یہ قانون اس مواد پر لاگو ہوتا ہے جو دیکھنے والے کو اصلی لگے، چاہے وہ AI سے بنایا گیا ہو۔

قانون کی دفعات 104، 106 اور 107 نے Criminal Justice and Immigration Act 2008 میں نئے جرم شامل کیے۔ وزارت انصاف کی 16 اکتوبر 2026 کی رہنمائی کے مطابق یہ تین قسمیں ہیں:

  • گلا دبانا یا دم گھونٹنا: ایسی فحش تصاویر یا ویڈیوز جن میں ایک شخص دوسرے کا گلا دباتا یا دم گھونٹتا دکھایا جائے۔
  • رشتہ داروں کے درمیان جنسی عمل: اس میں کچھ سوتیلے اور رضاعی (فوسٹر) رشتے بھی شامل ہیں جب ایک فرد 18 سال سے کم ہو یا ایسا ظاہر کیا جائے۔
  • 16 سال سے کم عمر، اصلی یا ظاہر کردہ: بالغ افراد کا بچوں کا کردار ادا کرنا بھی اس میں آتا ہے۔

حکومت کی فیکٹ شیٹ کہتی ہے کہ گلا دبانے والے جرم میں "حقیقت جیسی AI تصاویر" بھی شامل ہیں۔ کارٹون جو کسی کو اصلی نہ لگیں، ان تین جرائم سے باہر ہیں۔

نیا جرم (6 نومبر 2026 سے)رکھنے کی زیادہ سے زیادہ سزاآگے بھیجنے کی زیادہ سے زیادہ سزا
گلا دبانے یا دم گھونٹنے کا مواد2 سال قید5 سال قید
رشتہ داروں کے درمیان جنسی عمل2 سال قید5 سال قید
16 سال سے کم عمر، اصلی یا ظاہر کردہ3 سال قید5 سال قید

رہنمائی کے مطابق "شائع کرنا" بہت وسیع ہے: کسی بھی طریقے سے تصویر کسی دوسرے کو دینا یا دستیاب کرنا۔ گروپ چیٹ میں کلپ فارورڈ کرنا بھی اسی میں آتا ہے۔ یہ قانون انگلینڈ اور ویلز میں لاگو ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی اپنی الگ دفعہ 105 ہے جو 6 نومبر کے نفاذ میں شامل نہیں تھی۔

6 نومبر 2026 سے برطانیہ میں کون سا مواد رکھنا قانونی اور کون سا غیر قانونی ہے، پاکستانیوں کے لیے چارٹ

پرانی فائلیں بھی گنی جاتی ہیں، انہیں ابھی ڈیلیٹ کریں

وزارت انصاف کے مطابق کسی چیز کو اپنے پاس رکھنا ایک "جاری عمل" ہے۔ یعنی 6 نومبر سے پہلے محفوظ کی گئی فائل اگر اب بھی فون میں ہے تو قانون اس پر لاگو ہوتا ہے۔ رہنمائی ایسی فائلیں مستقل طور پر ڈیلیٹ کرنے کو کہتی ہے۔

اپنے پاس رکھنے میں فون، لیپ ٹاپ، کلاؤڈ اکاؤنٹ اور محفوظ فائلیں سب شامل ہیں۔ قانون میں چار دفاع (ڈیفنس) دیے گئے ہیں:

  1. آپ نے وہ تصویر دیکھی نہیں تھی اور آپ کو اس کے بارے میں علم یا شک نہیں تھا۔
  2. وہ آپ کے مانگے بغیر بھیجی گئی اور آپ نے اسے "غیر مناسب مدت" تک نہیں رکھا۔
  3. آپ کے پاس کوئی جائز وجہ تھی، جیسے مخصوص کام یا تحقیق۔
  4. آپ خود اس عمل میں شریک تھے اور دیگر شرائط پوری ہوتی ہیں۔

دوسرا دفاع اس شخص کو بچاتا ہے جسے بن مانگے کلپ ملا۔ یہ اس کو نہیں بچاتا جو اسے گیلری میں رکھ لے یا آگے بھیج دے۔

18 سال یا زیادہ عمر کے لوگ برطانیہ میں قانونی فحش مواد دیکھ اور رکھ سکتے ہیں۔ 2025 میں صرف عمر کی جانچ کا طریقہ بدلا، اور 2026 میں چند مخصوص قسمیں ممنوع ہوئیں۔ عام بالغ دیکھنا جرم نہیں بنا۔

Online Safety Act 2023 کے تحت 25 جولائی 2025 سے ہر ایسی ویب سائٹ اور ایپ کو برطانوی صارفین کی عمر "مؤثر طریقے" سے چیک کرنی ہوتی ہے، جیسے چہرے سے عمر کا اندازہ، شناختی کارڈ کی تصویر یا کریڈٹ کارڈ۔ ریگولیٹر Ofcom کے مطابق اس کا کام بالغوں کو قانونی مواد سے روکنا نہیں۔ نئے جرائم Online Safety Act میں "ترجیحی جرائم" ہیں، اس لیے پلیٹ فارمز کو یہ مواد خود ڈھونڈ کر ہٹانا ہوتا ہے، ورنہ 18 ملین پاؤنڈ یا عالمی آمدنی کا 10 فیصد تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

VPN استعمال کرنا بذات خود جرم نہیں

Online Safety Act عمر کی جانچ کی ذمہ داری ویب سائٹس اور ایپس پر ڈالتا ہے، صارف پر نہیں۔ ہمیں اس قانون میں VPN (جو آپ کا مقام چھپاتا ہے) استعمال کرنے والے بالغ کے لیے کوئی جرم نہیں ملا۔ لیکن غیر قانونی مواد VPN سے آئے تب بھی غیر قانونی ہی رہتا ہے۔ یہ قانون کے متن کی ہماری سمجھ ہے، Ofcom کا صارفین والا صفحہ ہمارے لیے نہیں کھلا۔

کچھ مواد 2026 سے پہلے بھی غیر قانونی تھا

نئے جرائم پرانے قوانین کے علاوہ ہیں۔ انتہائی فحش مواد، بچوں کی نازیبا تصاویر اور کسی کی نجی تصویر کا غلط استعمال پہلے سے جرم تھے۔

دفعہ 63: انتہائی فحش مواد

Criminal Justice and Immigration Act 2008 کی دفعہ 63 کے تحت ایسا حقیقت جیسا مواد رکھنا پہلے سے جرم ہے جس میں جان کو خطرہ، جنسی اعضا کو شدید چوٹ، لاش یا جانور کے ساتھ عمل، یا بغیر رضامندی کے جنسی عمل دکھایا جائے۔

بچوں کی نازیبا تصاویر: ہمیشہ جرم

18 سال سے کم عمر کسی بھی فرد کی نازیبا تصویر غیر قانونی ہے۔ Criminal Justice Act 1988 کی دفعہ 160 کے تحت اسے رکھنے پر 5 سال تک قید ہو سکتی ہے۔ بنانا، بھیجنا یا فارورڈ کرنا اس سے بھی سنگین جرم ہے۔ ایڈٹ یا AI سے بنی تصویر بھی شامل ہے۔ یہ بات اہم نہیں کہ گروپ ایڈمن نے بھیجی، ایپ نے خود محفوظ کر لی، یا آپ نے مذاق میں آگے بھیجی۔

ڈیپ فیک اور کسی کی نجی تصویر

  • 31 جنوری 2024 سے کسی کی نجی تصویر یا ویڈیو اس کی رضامندی کے بغیر شیئر کرنا، یا شیئر کرنے کی دھمکی دینا، Sexual Offences Act 2003 کی دفعہ 66B کے تحت جرم ہے۔
  • 6 فروری 2026 سے کسی بالغ کی جعلی نجی تصویر بغیر رضامندی بنانا دفعہ 66E کے تحت جرم ہے۔
  • 29 جون 2026 سے ایسی جعلی تصاویر بنانے والا ٹول (nudification app) بنانا یا فراہم کرنا دفعہ 66I کے تحت جرم ہے، سزا 3 سال تک۔

واٹس ایپ اور ٹیلیگرام گروپ سب سے بڑا روزمرہ خطرہ ہیں

زیادہ تر لوگ کچھ تلاش نہیں کرتے۔ کسی بڑے گروپ میں کلپ آتا ہے، ایپ اسے خود فون میں محفوظ کر لیتی ہے، اور وہ گیلری میں پڑا رہتا ہے۔ آٹو ڈاؤن لوڈ بند کرنا اور ایسے گروپ چھوڑنا سب سے آسان حفاظت ہے۔

واٹس ایپ میں یہ سیٹنگ Settings، پھر Storage and data، پھر Media auto-download میں ہے۔ ٹیلیگرام میں Settings، پھر Data and Storage میں۔ تصاویر اور ویڈیوز کو صرف ٹیپ کرنے پر ڈاؤن لوڈ ہونے دیں۔

اگر کوئی غیر قانونی چیز آ جائے:

  1. اسے کسی کو فارورڈ نہ کریں، شکایت کے لیے بھی نہیں۔
  2. چیٹ اور گیلری دونوں سے ڈیلیٹ کریں، اور "Recently deleted" یا بن بھی خالی کریں۔
  3. Google Photos یا iCloud کا بیک اپ بھی چیک کریں۔
  4. بار بار ایسا ہو تو گروپ چھوڑ دیں۔
  5. اگر اس میں کوئی بچہ ہو تو کسی کو بھیجنے کے بجائے پولیس کو 101 پر، اور ایمرجنسی میں 999 پر اطلاع دیں۔
واٹس ایپ یا ٹیلیگرام گروپ میں غیر قانونی کلپ آنے پر برطانیہ میں پاکستانی طلبہ کے لیے 5 قدم

سزا سے ویزا منسوخ ہو سکتا ہے، 12 ماہ قید پر ملک بدری

قانونی مواد دیکھنے سے ویزا پر اثر نہیں پڑتا، مگر مجرمانہ سزا سے پڑ سکتا ہے۔ امیگریشن رولز کے حصے Part Suitability کے تحت 12 ماہ یا زیادہ قید پر ہوم آفس کو ویزا لازماً منسوخ کرنا ہوتا ہے۔ کم سزا، جرمانہ یا ریکارڈ پر درج تنبیہ (caution) پر وہ ایسا کر سکتا ہے۔

نتیجہموجودہ ویزا پر اثرنئی درخواست پر اثر
12 ماہ یا زیادہ قید، یا اتنی ہی معطل سزالازماً منسوخ (SUI 5.2)لازماً مسترد (SUI 5.1)
12 ماہ سے کم قیدمنسوخ ہو سکتا ہے (SUI 5.5)مسترد ہو سکتی ہے (SUI 5.3)
جرمانہ یا کمیونٹی آرڈرمنسوخ ہو سکتا ہے (SUI 5.5)مسترد ہو سکتی ہے (SUI 5.3)
ریکارڈ پر درج cautionمنسوخ ہو سکتا ہے (SUI 5.5)مسترد ہو سکتی ہے (SUI 5.3)
قانونی بالغ مواد دیکھناکوئی اثر نہیںکوئی اثر نہیں

خودکار ملک بدری کب ہوتی ہے

UK Borders Act 2007 کی دفعہ 32 کے مطابق غیر برطانوی شہری کو برطانیہ میں کم از کم 12 ماہ قید کی سزا ہو تو ہوم آفس کو ملک بدری کا حکم "لازماً" جاری کرنا ہوتا ہے، سوائے دفعہ 33 کی چند استثنائی صورتوں کے، جیسے انسانی حقوق۔ دفعہ 38 کے مطابق معطل سزا (suspended sentence) اس میں شمار نہیں ہوتی، جب تک عدالت اسے نافذ نہ کرے۔ کئی چھوٹی سزائیں جو مل کر 12 ماہ سے زیادہ ہوں، وہ بھی خود بخود شمار نہیں ہوتیں۔ اہم بات قانون کی زیادہ سے زیادہ سزا نہیں بلکہ وہ سزا ہے جو عدالت واقعی دیتی ہے۔

سزا یا caution ہمیشہ ظاہر کریں

ویزا، مستقل رہائش اور شہریت کے فارم سزا اور caution کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ چھپانا اصل ریکارڈ سے بڑا مسئلہ ہے۔ SUI 9.1 کے تحت دھوکہ دہی پر درخواست لازماً مسترد ہوتی ہے، اور SUI 12.1 کچھ درخواستوں پر 10 سال کی پابندی لگاتا ہے۔ خاندان بلانے کا ارادہ ہو تو ہماری برطانیہ اسٹوڈنٹ ڈیپینڈنٹ گائیڈ دیکھیں۔

پولیس رابطہ کرے تو پہلے مفت قانونی مشورہ لیں

GOV.UK کے مطابق پولیس اسٹیشن پر پوچھ گچھ کے وقت آپ کو مفت قانونی مشورے (legal aid) کا حق ہے۔ سوالوں کے جواب سے پہلے "duty solicitor" مانگیں۔ یہ دن رات 24 گھنٹے دستیاب اور پولیس سے آزاد ہوتا ہے۔ پولیس Defence Solicitor Call Centre سے رابطہ کرتی ہے۔ آپ کسی کو بتا سکتے ہیں کہ آپ کہاں ہیں، اور ترجمان (interpreter) مانگ سکتے ہیں۔

پولیس کے رابطے کے بعد کوئی پیغام یا فائل ڈیلیٹ نہ کریں اور چیٹ میں کیس پر بات نہ کریں۔ اپنے وکیل سے پوچھیں۔

لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کا کال سینٹر 0207 664 9200 ہے، پیر سے جمعہ صبح 9:30 سے شام 5:30 تک، اور ہفتے کے آخر کا ایمرجنسی نمبر 020 7664 9276 ہے۔ قونصلر عملہ خاندان سے رابطے اور دستاویزات میں مدد کرتا ہے، مگر آپ کا وکیل نہیں بن سکتا۔ پاسپورٹ کا مسئلہ ہو تو ہماری بیرون ملک پاسپورٹ گم ہونے کی گائیڈ دیکھیں۔

پاکستان مواد بھیجنے پر PECA بھی لاگو ہو سکتا ہے

پاکستان میں کسی کو ایسا مواد بھیجنا Prevention of Electronic Crimes Act 2016 (PECA) کے تحت بھی جرم ہو سکتا ہے۔ بچوں سے متعلق دفعات 22، 22B اور 22C میں 14 سے 20 سال قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ دفعہ 21 کسی کی نجی تصویر بغیر رضامندی شیئر کرنے پر ہے۔ تفصیل ہماری PECA دفعات کی گائیڈ میں ہے۔

خلاصہ: برطانیہ میں کیا قانونی ہے اور کیا نہیں

کامانگلینڈ اور ویلز میں قانونی؟امیگریشن پر ممکنہ اثر
بالغ کا عمر کی جانچ کے بعد قانونی مواد دیکھناقانونیکوئی نہیں
VPN استعمال کرناصارف کے لیے کوئی جرم نہیں ملااکیلے اس سے کوئی نہیں
گلا دبانے، رشتہ داروں یا 16 سے کم عمر کردار والا مواد رکھنا6 نومبر 2026 سے غیر قانونیویزا منسوخ ہو سکتا ہے؛ 12 ماہ قید پر ملک بدری
ایسا مواد فارورڈ یا پوسٹ کرناغیر قانونی، 5 سال تکیہی، قید کا خطرہ زیادہ
18 سال سے کم عمر کی نازیبا تصویر رکھنا یا بھیجناہمیشہ غیر قانونیویزا منسوخی اور ملک بدری کا خطرہ
کسی کی نجی تصویر بغیر رضامندی شیئر کرنا یا جعلی بناناغیر قانونیویزا منسوخ یا درخواست مسترد ہو سکتی ہے
بن مانگا کلپ ملنا اور فوراً ڈیلیٹ کرناقانونی دفاع موجود ہےالزام نہ لگے تو کوئی نہیں
برطانیہ میں سزا پاکستانی طالب علم کے ویزا پر کیسے اثر ڈالتی ہے، caution سے 12 ماہ قید پر ملک بدری تک

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا اب برطانیہ میں فحش مواد دیکھنا جرم ہے؟

نہیں۔ بالغ قانونی مواد اب بھی دیکھ سکتے ہیں۔ 6 نومبر 2026 سے انگلینڈ اور ویلز میں صرف تین قسمیں رکھنا یا بھیجنا جرم ہوا: گلا دبانا یا دم گھونٹنا، رشتہ داروں کے درمیان عمل، اور 16 سال سے کم عمر والا مواد۔

کیا قانونی بالغ ویڈیوز دیکھنے پر پاکستان ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے؟

نہیں۔ قانونی مواد دیکھنا جرم نہیں اور امیگریشن رولز میں کوئی وجہ نہیں۔ ملک بدری اور ویزا منسوخی مجرمانہ سزا کے بعد ہوتی ہے، اور خودکار ملک بدری کم از کم 12 ماہ قید سے شروع ہوتی ہے۔

واٹس ایپ گروپ میں کسی نے کلپ بھیج دیا، کیا میں مشکل میں ہوں؟

اگر وہ آپ کے مانگے بغیر آیا اور آپ نے اسے غیر مناسب مدت تک نہیں رکھا تو قانون میں دفاع موجود ہے۔ اسے فارورڈ نہ کریں، چیٹ، گیلری اور بیک اپ سے ڈیلیٹ کریں، اور آٹو ڈاؤن لوڈ بند کریں۔

کیا 6 نومبر سے پہلے محفوظ پرانی ویڈیوز بھی شمار ہوں گی؟

جی ہاں۔ وزارت انصاف کے مطابق رکھنا جاری عمل ہے، اس لیے 6 نومبر 2026 کے بعد بھی فون میں موجود فائل قانون کے دائرے میں ہے۔ رہنمائی انہیں مستقل ڈیلیٹ کرنے کو کہتی ہے۔

کیا پولیس caution سے اسٹوڈنٹ ویزا متاثر ہوتا ہے؟

ہو سکتا ہے۔ ریکارڈ پر درج caution کی بنیاد پر SUI 5.3 اور 5.5 کے تحت ویزا منسوخ یا نئی درخواست مسترد ہو سکتی ہے۔ آئندہ فارموں پر اسے ظاہر کرنا لازمی ہے۔

کیا یہ نیا قانون اسکاٹ لینڈ میں بھی لاگو ہے؟

6 نومبر 2026 سے نہیں۔ نفاذ کا حکم صرف انگلینڈ اور ویلز کے لیے تھا۔ اسکاٹ لینڈ کی اپنی الگ دفعہ ہے جو اس تاریخ کے نفاذ میں شامل نہیں تھی۔

ذرائع اور آخری جانچ

آخری جانچ 6 نومبر 2026۔ ہم نے Crime and Policing Act 2026، اس کے نفاذ کے حکم، وزارت انصاف کی رہنمائی، امیگریشن رولز Part Suitability، UK Borders Act کی دفعہ 32 اور GOV.UK کا پولیس اسٹیشن پر قانونی مشورے والا صفحہ پڑھا۔ Ofcom کی عمر کی جانچ کی تاریخ سرچ نتائج میں اس کے اپنے صفحات سے لی گئی، اس کا صارفین والا صفحہ نہیں کھلا۔ ہائی کمیشن کے نمبر 5 نومبر 2026 کو phclondon.org سے پڑھے گئے۔ ایپ سیٹنگز کے نام فون پر آزمائے نہیں گئے۔

لکھاری کے بارے میں