پنجاب میں صارف کی شکایت آن لائن کیسے کریں: پورٹل اور 50,000 روپے جرمانے کا راستہ
پنجاب میں صارف کی شکایت consumerservice.punjab.gov.pk پر درج کریں۔ ڈپٹی کمشنر کے پاس بغیر نوٹس 50,000 روپے تک جرمانہ، عدالت میں 15 دن کا نوٹس، کورٹ فیس نہیں۔

مختصر جواب: پنجاب میں صارف کی شکایت کا سرکاری پورٹل consumerservice.punjab.gov.pk ہے۔ پہلے اکاؤنٹ بنائیں، پھر Register Complaint پر جائیں۔ دکان پر قیمتوں کی فہرست، رسید یا میعاد کی تاریخ نہ ہو تو ڈپٹی کمشنر کو شکایت کریں، جہاں قانونی نوٹس کی ضرورت نہیں اور جرمانہ 50,000 روپے تک ہو سکتا ہے۔ خراب چیز کے لیے ضلعی صارف عدالت جائیں۔
پنجاب میں جب کوئی دکاندار دھوکا دے تو زیادہ تر لوگ وکیل اور اسٹامپ پیپر کا سوچتے ہیں۔ پنجاب کی کنزیومر پروٹیکشن کونسل کے مطابق دو سستے راستے موجود ہیں۔ ایک ضلعی صارف عدالت، جہاں کوئی کورٹ فیس نہیں۔ دوسرا ڈپٹی کمشنر کو سادہ درخواست، جسے قانون میں Authority کہا گیا ہے۔
ہم نے 7 نومبر 2026 کو ڈائریکٹوریٹ آف کنزیومر پروٹیکشن کونسل کی ویب سائٹ کا ہوم پیج، FAQ اور Guidelines پڑھے، اور شکایت کا پورٹل دیکھا۔ ہم نے اکاؤنٹ بنا کر شکایت درج نہیں کی، اس لیے لاگ ان کے بعد والے فارم کے بارے میں نہیں بتا سکتے۔
پنجاب میں شکایت کے دو سرکاری راستے ہیں
آپ ضلعی صارف عدالت میں دعویٰ کر سکتے ہیں، یا ڈپٹی کمشنر کو شکایت دے سکتے ہیں۔ عدالت جانے سے پہلے 15 دن کا قانونی نوٹس ضروری ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے لیے نوٹس نہیں چاہیے، مگر یہ راستہ قانون کی صرف چار دفعات کے لیے ہے۔
| بات | ڈپٹی کمشنر (Authority) | ضلعی صارف عدالت |
|---|---|---|
| فیصلہ کون کرتا ہے | ڈپٹی کمشنر | ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج یا ایڈیشنل جج |
| پہلے قانونی نوٹس | ضروری نہیں | 15 دن کا، سادہ کاغذ پر |
| کن باتوں کے لیے | دفعہ 11، 16، 18 اور 19 | خراب چیز، ناقص سروس، ہرجانہ |
| سزا | 50,000 روپے تک جرمانہ | 2 سال تک قید، 100,000 روپے تک جرمانہ، یا دونوں، اور ہرجانہ |
| کورٹ فیس | نہیں لکھی | کوئی نہیں |
| 30 دن میں اپیل | سیکرٹری، صنعت، تجارت، سرمایہ کاری اور ہنر مندی کا محکمہ | لاہور ہائی کورٹ |

قیمت، رسید یا لیبل کا مسئلہ ہو تو ڈپٹی کمشنر کے پاس جائیں
یہ چار دفعات چار فرائض کے بارے میں ہیں۔ چیز کے اجزا، معیار اور تاریخ بتانا۔ سروس دینے والے کی اہلیت اور آلات بتانا۔ قیمتوں کی فہرست لگانا۔ خریدار کو رسید دینا۔ ان میں سے کوئی فرض پورا نہ ہو تو ڈپٹی کمشنر جرمانہ کر سکتا ہے۔
دکاندار کے فرائض کی پوری تفصیل ہماری گائیڈ پنجاب میں دکان کی رسید اور واپسی کے قواعد میں ہے۔ مسئلہ چھوٹی رقم کا ہو تو بھی یہ راستہ کام کا ہے۔ کوئی 150 روپے کی میعاد ختم چیز کے لیے ہرجانے کا مقدمہ نہیں کرتا، مگر 50,000 روپے تک جرمانے کا ڈر دکاندار کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
خراب فریج، ایک ہفتے میں بند ہو جانے والا فون، یا پیسے لے کر مرمت نہ کرنا دوسری بات ہے۔ یہ ہرجانے کا دعویٰ ہے اور نوٹس کے بعد ضلعی صارف عدالت میں جاتا ہے۔ اس کا طریقہ خراب چیز کی مرمت، تبدیلی یا رقم واپسی میں ہے۔
پورٹل پر شکایت درج کرنے کا طریقہ
پورٹل پر Login / Register، Register Complaint اور Guidelines for Consumers کے لنک موجود ہیں۔ وہاں مقدمہ ڈھونڈنے اور Cause List (عدالت کی پیشی کی فہرست) دیکھنے کی سہولت بھی ہے۔ فارم لاگ ان کے بعد کھلتا ہے، اس لیے تیسرے مرحلے کے بعد کی باتیں ہمارا مشورہ ہیں۔
- consumerservice.punjab.gov.pk کھولیں اور Login / Register چنیں۔
- اپنا اکاؤنٹ بنائیں اور لاگ ان کریں۔
- Register Complaint پر جائیں اور ضلع کے حساب سے عدالت یا Authority چنیں۔
- شکایت لکھیں اور رسید، تصویریں اور بھیجے گئے نوٹس کی کاپی تیار رکھیں۔
- شکایت نمبر محفوظ کریں۔ بعد میں Search Case/Complaint سے ضلع، نمبر، شناختی کارڈ یا عنوان سے کیس ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

ڈائریکٹوریٹ کے ہوم پیج پر لکھا ہے کہ آن لائن رجسٹریشن پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ اور اس کے قواعد کے طریقے کے تابع ہے۔ یعنی پورٹل استعمال کرنے سے عدالت والے نوٹس کی شرط ختم نہیں ہوتی۔
عدالت جانے سے پہلے 15 دن کا نوٹس ضروری ہے
ڈائریکٹوریٹ کی ہدایات کے مطابق بیچنے والے یا بنانے والے کو سادہ کاغذ پر قانونی نوٹس بھیجیں۔ رجسٹرڈ ڈاک سے، رسید کے ساتھ۔ اسے نوٹس ملنے کے بعد 15 دن میں معاملہ ٹھیک کرنا ہے۔ نہ کرے تو اگلے 15 دن میں سادہ کاغذ پر دعویٰ دائر کریں۔ کورٹ فیس نہیں لگتی۔
آپ خود بھی دعویٰ کر سکتے ہیں، یا وکیل کے ذریعے بھی۔ FAQ میں یہ بھی لکھا ہے کہ شکایت کی وجہ پیدا ہونے کے 30 دن کے اندر کارروائی ہونی چاہیے۔ FAQ اور ہدایات کی مدت کو ملا کر پڑھیں اور انتظار نہ کریں۔ مسئلہ پتا چلتے ہی اسی ہفتے نوٹس بھیج دیں۔ مزید تفصیل بغیر وکیل کے صارف عدالت جانے کی گائیڈ میں ہے۔

شکایت کے ساتھ کیا ثبوت رکھیں
یہ ہمارا مشورہ ہے، کیونکہ سرکاری ہدایات کے صفحے پر کاغذات کی فہرست نہیں۔ البتہ وہ صفحہ خریداری پر رسید لینے کا ضرور کہتا ہے۔ ثبوت جتنا صاف ہوگا، کیس اتنا مضبوط ہوگا۔ یہ چیزیں سنبھال کر رکھیں:
- رسید یا بل، اور خریداری کی تاریخ۔
- چیز اور اس کے لیبل کی تصویریں۔
- بیچنے والے کا نام، پتا اور فون نمبر۔
- قانونی نوٹس کی کاپی اور ڈاک کی رسید۔
- آن لائن خریداری ہو تو آرڈر کا صفحہ اور ڈیلیوری کا میسج۔
صرف ہاتھ کی لکھی پرچی ہو تو دکان کے بورڈ اور چیز کے پیکٹ کی تصویر بھی لے لیں۔ قیمت زیادہ لینے کی شکایت کا الگ راستہ ہماری گائیڈ زیادہ قیمت کی شکایت پنجاب میں ہے۔
پورٹل نہ چلے تو کہاں رابطہ کریں
ڈائریکٹوریٹ نے معلومات اور شکایت کے لیے ہیلپ لائن 042-99030124 دی ہے۔ مرکزی دفتر 135-J، ماڈل ٹاؤن، لاہور میں ہے، فون 042-99232486 اور 042-99232490۔ پورٹل اور مرکزی ویب سائٹ الگ الگ ہیں، اس لیے ایک نہ کھلے تو دوسری آزما لیں۔ ہم نے ان نمبروں پر کال نہیں کی۔
کیس کو جلدی نمٹانے کے نام پر کسی کو پیسے نہ دیں۔ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق عدالت میں دعویٰ دائر کرنے کی کوئی فیس نہیں۔ یہ قانون صرف پنجاب کا ہے۔ کسی اور صوبے میں ہیں تو وہاں کا قانون اور عدالت الگ ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا پنجاب کی صارف عدالت میں دعویٰ کرنے کی فیس ہے؟
نہیں۔ ڈائریکٹوریٹ کے FAQ کے مطابق کورٹ فیس نہیں لگتی۔ نوٹس کی ڈاک کا خرچ آپ کا اپنا ہوگا۔
کیا ڈپٹی کمشنر کو بغیر نوٹس کے شکایت دی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ دفعہ 11، 16، 18 اور 19 کے معاملات میں قانونی نوٹس ضروری نہیں۔
ڈپٹی کمشنر زیادہ سے زیادہ کتنا جرمانہ کر سکتا ہے؟
50,000 روپے تک۔ عدالت 100,000 روپے تک جرمانہ، 2 سال تک قید، یا دونوں سزائیں دے سکتی ہے۔
عدالت میں دعویٰ کتنے دن میں کرنا ہوگا؟
FAQ میں وجہ پیدا ہونے کے 30 دن لکھے ہیں۔ ہدایات میں 15 دن کے نوٹس کے بعد اگلے 15 دن میں دعویٰ لکھا ہے۔ جلدی کریں اور تاریخوں کا ثبوت رکھیں۔
کیا وکیل کے بغیر دعویٰ ہو سکتا ہے؟
جی ہاں۔ ہدایات کے مطابق آپ خود بھی دعویٰ دائر کر سکتے ہیں۔
کیا یہ پورٹل سندھ یا KP کے لیے بھی ہے؟
نہیں۔ یہ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ کا پورٹل ہے۔ دوسرے صوبوں کے اپنے قوانین اور عدالتیں ہیں۔
آخری بار کب چیک کیا اور ذرائع
آخری بار 7 نومبر 2026 کو چیک کیا۔ ہم نے ڈائریکٹوریٹ کا ہوم پیج، FAQ، Guidelines اور شکایت کا پورٹل پڑھا۔ ہم نے اکاؤنٹ نہیں بنایا اور شکایت درج نہیں کی۔ پورٹل کی فائلنگ والی PDF اس بار ہم نہیں پڑھ سکے، اس لیے دعویٰ دائر ہونے کے بعد عدالت کی کارروائی کی مدتیں یہاں نہیں لکھیں۔
لکھاری کے بارے میں

