پاکستان میں SME قرض: وزیر اعظم نے طویل مدتی فنانسنگ کے لیے 80 فیصد برآمد کی شرط ختم کرنے کا حکم دیا
وزیر اعظم شہباز شریف نے 5 نومبر 2026 کو ہدایت دی کہ SMEs کو طویل مدتی قرض کے لیے 80 فیصد پیداوار برآمد کرنا ضروری نہ ہو۔ 650 ارب روپے مختص۔ اب کیا کریں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار (SMEs) کو طویل مدتی قرض لینے کے لیے اپنی پیداوار کا کم از کم 80 فیصد برآمد کرنے کی شرط ختم کی جائے۔ انہوں نے یہ ہدایت 5 نومبر 2026 کو SMEs کے بارے میں ایک اجلاس میں دی۔ اسی اجلاس کو بتایا گیا کہ 1 نومبر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا SME پورٹل کھلنے کے بعد 10,000 سے زیادہ قرض کی درخواستیں آ چکی ہیں۔
یہ ابھی ایک ہدایت ہے، قاعدہ نہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اپنی فنانسنگ اسکیموں کی شرائط سرکلر کے ذریعے طے کرتا ہے، اور 6 نومبر تک ہمیں اس تبدیلی کا کوئی سرکلر نہیں ملا۔ ہم نے اسی دن وزیر اعظم کے اجلاس کا سرکاری احوال اور وزیر خزانہ کے SME جائزے کے بارے میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) کی ریلیز خود پڑھی۔ نیچے بتایا گیا ہے کہ کیا کہا گیا، کتنی رقم ہے، اور SME مالک اب کیا کر سکتا ہے۔
وزیر اعظم نے 80 فیصد برآمد کی شرط ختم کرنے کا حکم دیا
5 نومبر کے اجلاس کے سرکاری احوال کے مطابق وزیر اعظم نے اس شرط کو ختم کرنے کی ہدایت دی جس کے تحت طویل مدتی قرض کے لیے SMEs کو اپنی کم از کم 80 فیصد مصنوعات برآمد کرنی ہوتی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بینک کو SMEs اور برآمد کنندگان کی رعایتی فنانسنگ اسکیم سے ہٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہاں طویل مدتی قرض کا مطلب ہے مشینری اور کاروبار بڑھانے کے لیے کئی سال کا قرض، عام بینک قرض سے کم شرح پر۔ 80 فیصد برآمد کی شرط زیادہ تر چھوٹے کاروباروں کو باہر کر دیتی ہے، کیونکہ وہ اپنا مال ملک کے اندر بھی بیچتے ہیں۔ یہ شرط ختم ہونے سے وہ کاروبار بھی درخواست دے سکے گا جو اپنی پیداوار کا کچھ حصہ برآمد کرتا ہے۔
سرکاری احوال یہ نہیں بتاتا کہ اب برآمد کا کتنا حصہ، اگر کوئی، ضروری ہو گا۔ یہ تفصیل SBP اسکیم میں تبدیلی کرتے وقت دے گا۔

اس سال برآمد کنندگان کے رعایتی قرضوں کے لیے 650 ارب روپے
اجلاس کو بتایا گیا کہ SMEs اور نئے برآمد کنندگان کے لیے ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت 300 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس سال لانگ ٹرم فنانسنگ فیسلٹی کے لیے 350 ارب روپے مختص ہیں۔ دونوں ملا کر برآمد سے جڑے کاروباروں کے لیے 650 ارب روپے کا رعایتی قرض بنتا ہے۔ یہ جمع ہمارا اپنا حساب ہے۔
| چیز | 5 نومبر 2026 کو بتایا گیا عدد |
|---|---|
| ایکسپورٹ فنانس اسکیم، SMEs اور نئے برآمد کنندگان کے لیے | 300 ارب روپے |
| لانگ ٹرم فنانسنگ فیسلٹی، اس سال | 350 ارب روپے |
| 1 نومبر سے SBP کے SME پورٹل پر درخواستیں | 10,000 سے زیادہ |
| طویل مدتی قرض کے لیے برآمد کی شرط | 80 فیصد کی شرط ختم کرنے کی ہدایت |
ایکسپورٹ فنانس اسکیم برآمد کنندگان کو کاروبار چلانے کے لیے مختصر مدت کا قرض دیتی ہے۔ لانگ ٹرم فنانسنگ فیسلٹی (LTFF) پلانٹ اور مشینری کے لیے قرض دیتی ہے۔ دونوں SBP بینکوں کے ذریعے چلاتا ہے۔ 6 نومبر کو ہم SBP کی اپنی اسکیم والی ویب سائٹ نہیں کھول سکے، اس لیے یہاں ان کی موجودہ شرح یا حد نہیں لکھی۔

SMEConnect پر پہلے دنوں میں 10,000 سے زیادہ درخواستیں
اجلاس کو بتایا گیا کہ SBP کا SME قرض پورٹل 1 نومبر کو کھلنے کے بعد 10,000 سے زیادہ درخواستیں آئیں۔ وزیر خزانہ کے 5 نومبر کے الگ جائزے میں کہا گیا کہ ہزاروں درخواست دہندگان نے "گہری دلچسپی" دکھائی ہے، اور پلیٹ فارم کو مزید مضبوط اور طریقہ کار کو آسان بنانا ہو گا۔
SMEConnect اب بینکوں کو SME قرض کی درخواست دینے کا واحد راستہ ہے۔ ہماری گائیڈ SBP SMEConnect پر درخواست دینے کا طریقہ فارم، درخواست کی صورتحال دیکھنے اور رد ہونے کی وجوہات سمجھاتی ہے۔
وزیر خزانہ نئے SME قرض لینے والوں کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 5 نومبر کو SME فنانسنگ کا الگ جائزہ لیا۔ PID کی ریلیز کہتی ہے کہ قرض کا حجم بڑھا ہے، لیکن زیادہ نئے SMEs کو باقاعدہ قرض کے نظام میں لانا "اہم ترجیح" ہے۔ انہوں نے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے الگ الگ اور واضح طریقہ اپنانے کو کہا۔
ریلیز اس جائزے سے چار نکات بتاتی ہے:
- کمرشل بینک، مائیکرو فنانس بینک اور نان بینک فنانس کمپنیاں اپنی پہنچ بڑھائیں۔
- مخصوص فنانسنگ حدوں، خاص طور پر برآمد والی حدوں، کا بہتر استعمال کیا جائے۔
- SMEDA، یعنی SME ڈیولپمنٹ اتھارٹی، قرض دینے والوں کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ تربیت اصل قرض تک پہنچے۔
- اگلے اجلاسوں میں SMEConnect اور متعلقہ وزارتوں کی بتائی ہوئی قانونی رکاوٹوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
وزیر اعظم کے اجلاس میں SMEs کی ٹیکس، ریفنڈ، صوبائی محصولات، ایکریڈیٹیشن، لاجسٹکس، ادائیگیوں اور فنانسنگ سے متعلق شکایات بھی سنی گئیں۔ انہوں نے بہتر ایکریڈیٹیشن معیار، زیادہ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں اور برآمد کنندگان کے لیے آسان قواعد کی ہدایت دی۔
SME مالک اس ہفتے کیا کرے
یہ نہ سمجھیں کہ نئی شرط ابھی سے آپ کی فائل پر لاگو ہے۔ جب تک SBP سرکلر جاری نہیں کرتا، بینک موجودہ اسکیم پر ہی چلیں گے۔ لیکن آپ تیاری کر سکتے ہیں تاکہ تبدیلی آتے ہی آپ پہلی قطار میں ہوں۔
- کسی بھی SME قرض کے لیے SMEConnect کے ذریعے درخواست دیں۔ بینک اب کسی اور طریقے سے SME درخواست نہیں لیتے۔
- اپنی برآمد کا ریکارڈ جمع کریں: برآمد کی رقم کی وصولی، فارم E یا الیکٹرانک ایکسپورٹ فارم، اور پچھلے سال کی فروخت۔
- اپنے بینک کے SME ڈیسک سے لکھ کر پوچھیں کہ کیا آپ آج LTFF یا ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے اہل ہیں۔
- اگر صرف 80 فیصد برآمد کی وجہ سے انکار ہو تو انکار کا ثبوت سنبھال کر رکھیں، اور SBP کا سرکلر آنے کے بعد دوبارہ درخواست دیں۔
- اگر بینک ایسا رعایتی قرض پراسیس نہ کرے جس کے آپ اہل ہیں، تو پہلے بینک سے شکایت کریں، پھر SBP سے۔
پاکستانی بینکوں کی اہم SME اسکیموں کا موازنہ ہماری فہرست بینکوں کی SME قرض اسکیمیں میں ہے۔ اگر آپ کا SME قرض پہلے سے واجب الادا ہے تو ہماری گائیڈ واجب الادا SME قرض ری شیڈول کرانا دیکھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا SME طویل مدتی قرض کے لیے 80 فیصد برآمد کی شرط ختم ہو گئی ہے؟
وزیر اعظم نے 5 نومبر 2026 کو اسے ختم کرنے کی ہدایت دی۔ یہ اس وقت لاگو ہو گی جب SBP سرکلر کے ذریعے اسکیم بدلے گا۔ 6 نومبر تک ہمیں کوئی سرکلر نہیں ملا۔
لانگ ٹرم فنانسنگ فیسلٹی کیا ہے؟
یہ SBP کی اسکیم ہے جو بینکوں کے ذریعے برآمد کنندگان کو پلانٹ اور مشینری کے لیے کم شرح پر قرض دیتی ہے۔ اس سال اس کے لیے 350 ارب روپے مختص ہیں۔
SMEs کے لیے ایکسپورٹ فنانس اسکیم میں کتنی رقم ہے؟
5 نومبر کے اجلاس کو بتایا گیا کہ SMEs اور نئے برآمد کنندگان کے لیے 300 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
SMEConnect پر کتنے SMEs نے درخواست دی؟
حکومت کے مطابق 1 نومبر کو پورٹل کھلنے کے بعد 10,000 سے زیادہ درخواستیں آئیں۔
کیا بینک رعایتی SME قرض سے انکار کر سکتا ہے؟
بینک اب بھی آپ کی فائل جانچتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ کسی بینک کو رعایتی اسکیم سے ہٹنے کی اجازت نہیں ہو گی، اس لیے انکار کی وجہ ہونی چاہیے، جو SMEConnect پر نظر آتی ہے۔
ہم نے کیا چیک کیا اور ذرائع
6 نومبر 2026 کو ہم نے سرکاری نشریاتی ادارے پر شائع وزیر اعظم کے 5 نومبر کے SME اجلاس کا وفاقی حکومت کا احوال، اور وزیر خزانہ کے SME فنانسنگ جائزے کے بارے میں PID کی 5 نومبر کی ریلیز پڑھی۔ اس دن SBP کی ویب سائٹ نے ہماری درخواستیں قبول نہیں کیں، اس لیے ہم LTFF اور ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے موجودہ قواعد نہیں پڑھ سکے اور یہ تصدیق نہیں کر سکے کہ کوئی سرکلر جاری ہوا ہے یا نہیں۔ اسی وجہ سے یہاں کسی اسکیم کی شرح یا حد نہیں لکھی۔
لکھاری کے بارے میں

