مواد پر جائیں
Pakistan Era logoاردو
گائیڈزRead in English

پنجاب میں ای چالان آن لائن چیک کریں: شناختی کارڈ یا گاڑی کے نمبر سے، اور ادائیگی کا طریقہ

پنجاب کا ای چالان echallan.psca.gop.pk پر گاڑی کے نمبر اور شناختی کارڈ یا چیسس نمبر سے چیک کریں۔ جرمانوں کی فہرست اور PSID سے ادائیگی کا طریقہ۔

Mariam Khalid, author at Pakistan Eraتحریر: مریم خالد8 منٹ کی پڑھائی
لکڑی کی گہری میز پر رکھا سیاہ اسکرین والا سادہ اسمارٹ فون، پیچھے کریم رنگ کی سادہ دیوار

پنجاب میں ای چالان آن لائن چیک کرنے کے لیے echallan.psca.gop.pk کھولیں۔ یہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کا سرکاری پورٹل ہے۔ گاڑی کا نمبر لکھیں، پھر 13 ہندسوں والا شناختی کارڈ نمبر یا گاڑی کا چیسس نمبر لکھیں، کیپچا مکمل کریں اور Search دبائیں۔ ہر زیر التوا چالان خلاف ورزی، جگہ، تصویر اور رقم کے ساتھ آ جاتا ہے۔ چیک کرنا مفت ہے۔ ادائیگی PSID نمبر سے ePay Punjab، بینک ایپ، موبائل والٹ یا ATM سے ہوتی ہے۔

ہم نے آزمایا: ہماری اردو ٹیم نے 4 نومبر 2026 کو اس گائیڈ کے تمام مراحل اصل فون پر خود آزما کر دیکھے۔

فرض کریں لاہور میں کسی سڑک پر کیمرے کی فلیش چمکی اور فون پر کوئی پیغام نہیں آیا۔ آپ کو پیغام کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ پورٹل پر خود دیکھ لیں۔ ہم نے 4 نومبر 2026 کو یہ پورٹل کھولا، اور یہ وہی دو خانے مانگتا ہے جو نیچے لکھے ہیں۔

ای چالان وہ چالان ہے جو سڑک پر لگے کیمرے خلاف ورزی دیکھ کر خود بناتے ہیں۔ یہ گاڑی کے نمبر پر بنتا ہے، ڈرائیور پر نہیں۔ اس لیے جس کے نام گاڑی رجسٹر ہے، چالان اسی کے ذمے آتا ہے۔

پنجاب ای چالان آن لائن چیک کرنے کا طریقہ

PSCA پورٹل کے فارم پر صرف دو خانے، ایک کیپچا اور Search کا بٹن ہے۔ عام لوگوں کے لیے اس میں موبائل نمبر، لائسنس نمبر یا چالان نمبر سے سرچ کا کوئی خانہ نہیں، چاہے کوئی دوسری ویب سائٹ کچھ بھی کہے۔

PSCA پورٹل پر پنجاب ای چالان چیک کرنے کے مرحلے
  1. echallan.psca.gop.pk کھولیں۔ ڈومین gop.pk ہے، یعنی حکومت پنجاب۔ PSCA کے لوگو والی کوئی اور ویب سائٹ سرکاری نہیں۔
  2. گاڑی کا نمبر لکھیں۔ پورٹل پر یہ تین شکلیں لکھی ہیں: ABC 000، ABC 0000 اور ABC-00-0000۔
  3. شناختی کارڈ یا چیسس نمبر لکھیں۔ شناختی کارڈ 13 ہندسوں میں، بغیر ڈیش کے۔ پورٹل خود مثال دیتا ہے: 1234567890123۔
  4. کیپچا مکمل کریں اور Search دبائیں۔ کیپچا وہ خانہ ہے جو تصدیق کرتا ہے کہ آپ انسان ہیں۔
  5. نتیجہ پڑھیں۔ ہر چالان میں خلاف ورزی، کیمرے کی جگہ، تاریخ، وقت، تصویر اور واجب رقم ہوتی ہے۔
  6. PSID نمبر لکھ لیں۔ یہ 17 ہندسوں والا ادائیگی کا نمبر ہے، اور ہر ادائیگی کا طریقہ یہی مانگتا ہے۔

یہی سرچ PSCA کی Public Safety ایپ میں بھی ہے، جس کا لنک پورٹل پر Google Play اور App Store کے لیے دیا گیا ہے۔ پورٹل پر Sign in کا لنک بھی ہے، مگر سرچ کے لیے اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں۔

کیا شناختی کارڈ کے بغیر چیک ہو سکتا ہے؟ ہاں، چیسس نمبر سے۔ کیا صرف شناختی کارڈ سے، بغیر گاڑی کے نمبر کے؟ نہیں۔ گاڑی کا نمبر لازمی ہے۔ اگر آپ کی کئی گاڑیاں ہیں تو ہر گاڑی الگ چیک کریں۔

لاہور کا ای چالان کیسے چیک کریں

بالکل اسی طرح۔ لاہور PSCA کا پہلا شہر ہے، اور لاہور کا ای چالان اسی پورٹل پر گاڑی کے نمبر سے نظر آتا ہے۔ لاہور کے لیے کوئی الگ چالان ویب سائٹ نہیں۔ PSCA کے اپنے صفحے کے مطابق خلاف ورزی پکڑی جاتے ہی خودکار چالان بنتا ہے اور WhatsApp پر بھیج دیا جاتا ہے۔

  • چالان گاڑی کے ساتھ رہتا ہے۔ اگر گاڑی آپ کا بھائی چلا رہا تھا تب بھی چالان رجسٹرڈ مالک کو آتا ہے۔ جو گاڑی بیچی گئی مگر نام منتقل نہیں ہوا، اس کے چالان بیچنے والے کے نام آتے رہتے ہیں۔
  • آج صاف ہے تو صرف آج صاف ہے۔ چالان پراسیس ہونے کے بعد اپ لوڈ ہوتے ہیں، اس لیے پیر کا نتیجہ منگل کے کیمرے کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا۔
  • راولپنڈی اور اسلام آباد الگ ہیں۔ راولپنڈی پنجاب میں ہے اور PSCA پر آتا ہے۔ اسلام آباد وفاقی علاقہ ہے اور اس کا اپنا نظام ہے۔ ہر صوبے کا طریقہ ہماری گائیڈ ہر صوبے کے ای چالان پورٹل میں ہے۔

پنجاب میں ای چالان کتنے کا ہے

رقم خلاف ورزی اور گاڑی کی قسم پر منحصر ہے۔ پنجاب ٹریفک پولیس اپنی ویب سائٹ پر پوری فہرست دیتی ہے، جو ہم نے 4 نومبر 2026 کو دوبارہ پڑھی۔ موٹر سائیکل پر زیادہ تر خلاف ورزیوں کا جرمانہ 2,000 روپے ہے۔ 2000cc سے کم انجن والی کار پر عام طور پر 5,000 روپے۔ 2000cc سے بڑی کار پر 10,000 سے 20,000 روپے، اور پبلک گاڑیوں پر سب سے زیادہ۔

پنجاب ٹریفک پولیس کے مطابق عام ای چالان خلاف ورزیوں کے جرمانے
خلاف ورزیموٹر سائیکلکار 2000cc سے کمکار 2000cc سے زیادہپبلک گاڑی
حد رفتار سے تیز2,000 روپے5,000 روپے20,000 روپے20,000 روپے
سگنل توڑنا2,000 روپے5,000 روپے10,000 روپے15,000 روپے
غلط سمت میں چلانا2,000 روپے5,000 روپے10,000 روپے15,000 روپے
گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون2,000 روپے5,000 روپے10,000 روپے15,000 روپے
بغیر لائسنس2,000 روپے5,000 روپے10,000 روپے15,000 روپے
ہیلمٹ کے بغیر2,000 روپےلاگو نہیںلاگو نہیںلاگو نہیں
سیٹ بیلٹ کے بغیرلاگو نہیں5,000 روپے10,000 روپے10,000 روپے

ٹریفک پولیس کے صفحے پر رکشے جیسی تین پہیوں والی گاڑیوں کا الگ کالم بھی ہے، جس میں زیادہ تر جرمانے 3,000 روپے ہیں۔ اسی صفحے پر سب سے اہم بات یہ لکھی ہے: کوئی چالان کرنے والا افسر موقع پر جرمانہ وصول کرنے کا مجاز نہیں۔ جرمانہ موبائل بینکنگ ایپس اور والٹس کے ذریعے آن لائن جمع ہوتا ہے۔ سڑک پر نقد مانگنے والا قانون سے باہر ہے۔

پنجاب ای چالان کی ادائیگی کیسے کریں

PSID نمبر سے، کسی بھی ایسے طریقے سے جو حکومت پنجاب کی ادائیگیاں لیتا ہو۔ ستمبر 2026 میں ePay Punjab کی ویب سائٹ پر PSCA eChallan اور Traffic Challan دونوں درج تھے، اور لکھا تھا کہ 17 ہندسوں والا PSID کسی بھی ATM، انٹرنیٹ یا موبائل بینکنگ، ٹیلی کام ایجنٹ، موبائل والٹ یا بینک کاؤنٹر پر جمع ہو سکتا ہے۔

PSID سے پنجاب ای چالان جمع کرانے کے طریقے
طریقہکیا چاہیےنوٹ
ePay Punjab ایپ یا ویب سائٹچالان کا PSID، کارڈ، والٹ یا بینک اکاؤنٹPITB کا نظام، 1-Link سے تمام بینکوں سے جڑا
اپنی بینک ایپسرکاری ادائیگی والے حصے میں PSIDePay والا ہی نظام
JazzCash یا EasypaisaPSIDٹریفک پولیس کے صفحے پر والٹس کا ذکر ہے
1-Link والا کوئی بھی ATMPSIDمشین پر کارڈ سے
ای خدمت مرکزشناختی کارڈ اور چالانمرکز میں موجود بینک میں جمع

جس رشتہ دار کے پاس ایپ یا بینک اکاؤنٹ نہیں، اس کے لیے ای خدمت مرکز آسان ہے۔ ستمبر 2026 میں پنجاب ای خدمت مرکز کے صفحے پر Traffic e-Challan Collection کی سہولت درج تھی، اور بینک کے اوقات پیر سے جمعہ 9 سے 4، ہفتہ 10 سے 1 تھے۔ جانے سے پہلے اوقات دوبارہ دیکھ لیں۔ ePay ایپ کا پورا طریقہ ہماری گائیڈ ePay Punjab ایپ میں ہے۔

لنک والا چالان کا پیغام اصلی نہیں

PSCA اپنے صفحے کے مطابق چالان WhatsApp پر بھیجتا ہے۔ ہمارے علم کے مطابق اصلی پیغام میں ادائیگی کا لنک نہیں ہوتا اور کارڈ نمبر نہیں مانگا جاتا۔ جو پیغام لنک دے یا کارڈ نمبر مانگے، وہ دھوکہ ہے۔ اسے فشنگ کہتے ہیں، یعنی جعلی پیغام سے آپ کی معلومات یا پیسے چرانا۔

پنجاب میں جعلی ای چالان پیغام کی نشانیاں

سیدھا اصول یہ ہے: کبھی پیغام والے لنک سے ادائیگی نہ کریں۔ خود echallan.psca.gop.pk کھولیں، یا خود ePay کھولیں، اور وہی رقم جمع کریں جو وہاں نظر آئے۔ اگر آپ پہلے ہی لنک دبا چکے ہیں تو ہماری گائیڈ جعلی ای چالان ایس ایم ایس میں اگلے قدم دیکھیں۔

کیا پنجاب ای چالان جمع کرانے کی کوئی آخری تاریخ ہے

کسی پنجاب کے سرکاری ادارے نے ایسی کوئی تاریخ شائع نہیں کی۔ ہم نے 4 نومبر 2026 کو PSCA پورٹل اور ٹریفک پولیس کا جرمانوں والا صفحہ دوبارہ پڑھا۔ دونوں میں ادائیگی کے دن، دیر سے ادائیگی کا اضافی جرمانہ یا بلیک لسٹ کا کوئی ذکر نہیں۔ دوسری ویب سائٹوں پر 10، 15 یا 30 دن کی جو حدیں لکھی ہیں وہ ہمیں کسی سرکاری صفحے پر نہیں ملیں۔ جو بات یقینی ہے وہ یہ کہ بغیر ادائیگی کا چالان گاڑی کے ریکارڈ پر رہتا ہے اور ہر چیکنگ میں سامنے آتا ہے۔ PSCA کی بلیک لسٹ سے گاڑی نکالنے کا طریقہ یہاں ہے۔

پورٹل کچھ نہ دکھائے یا غلط چالان دکھائے

خالی نتیجہ عام طور پر نمبر لکھنے کی شکل کا مسئلہ ہوتا ہے۔ پرانی نمبر پلیٹیں نئی شکلوں سے میل نہیں کھاتیں۔ یہ قدم آزمائیں:

  1. نمبر پورٹل والی شکل میں لکھیں: ABC 000، ABC 0000 یا ABC-00-0000۔ اسپیس، ڈیش اور بغیر اسپیس والی شکلیں آزمائیں۔
  2. شناختی کارڈ سے کچھ نہ آئے تو چیسس نمبر آزمائیں، کیونکہ گاڑی گھر کے کسی اور فرد کے نام ہو سکتی ہے۔
  3. گاڑی بیچنے یا خریدنے والے دن خالی نتیجے کو ثبوت نہ سمجھیں۔ اسی دن دوبارہ چیک کریں۔
  4. اگر تصویر میں کوئی اور گاڑی ہے تو یہ جعلی نمبر پلیٹ کا معاملہ ہو سکتا ہے۔ ادائیگی نہ کریں، شکایت کریں۔
  5. غلط چالان صرف جان چھڑانے کے لیے جمع نہ کرائیں۔ تصویر، جگہ اور وقت نوٹ کریں اور رجسٹریشن بک اور شناختی کارڈ کے ساتھ PSCA کو شکایت کریں۔

پرانی گاڑی خریدنے سے پہلے بیچنے والے کے شناختی کارڈ یا چیسس نمبر سے چالان ضرور چیک کریں۔ مالک کی تصدیق الگ نظام میں ہوتی ہے، جو ہماری گائیڈ پنجاب میں گاڑی کی رجسٹریشن چیک میں ہے۔ موٹروے پر سفر ہو تو اردو میں ایم ٹیگ بیلنس چیک کرنے کا طریقہ بھی دیکھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

پنجاب میں شناختی کارڈ سے ای چالان کیسے چیک کریں؟

echallan.psca.gop.pk پر گاڑی کا نمبر اور بغیر ڈیش کے 13 ہندسوں والا شناختی کارڈ نمبر لکھیں، کیپچا مکمل کریں اور Search دبائیں۔ گاڑی کا نمبر ساتھ لکھنا لازمی ہے۔

لاہور کا ای چالان آن لائن کیسے دیکھیں؟

لاہور بھی اسی PSCA پورٹل پر ہے۔ گاڑی کا نمبر اور شناختی کارڈ یا چیسس نمبر لکھیں۔ لاہور کی کوئی الگ چالان ویب سائٹ نہیں۔

کیا چالان نمبر سے چیک ہو سکتا ہے؟

عام صارف کے لیے PSCA پورٹل صرف گاڑی کے نمبر اور شناختی کارڈ یا چیسس نمبر سے سرچ کرتا ہے۔ اگر چالان آپ کے پاس ہے تو اس پر PSID بھی ہے، جس سے سیدھی ePay Punjab پر ادائیگی ہو جاتی ہے۔

لاہور میں سگنل توڑنے کا چالان کتنے کا ہے؟

پنجاب ٹریفک پولیس کی فہرست کے مطابق موٹر سائیکل 2,000 روپے، 2000cc سے کم کار 5,000 روپے، 2000cc سے بڑی کار 10,000 روپے اور پبلک گاڑی 15,000 روپے۔

کتنے دن میں چالان جمع کرانا ہے؟

پنجاب کے کسی سرکاری صفحے پر آخری تاریخ یا دیر کا اضافی جرمانہ نہیں لکھا۔ چالان ادائیگی تک گاڑی کے ریکارڈ پر رہتا ہے۔

کیا ٹریفک وارڈن نقد جرمانہ لے سکتا ہے؟

نہیں۔ پنجاب ٹریفک پولیس کے صفحے کے مطابق کوئی چالان کرنے والا افسر موقع پر جرمانہ لینے کا مجاز نہیں۔ جرمانہ آن لائن یا والٹ سے جمع ہوتا ہے۔

آخری بار چیک کیا گیا اور ذرائع

ہم نے 4 نومبر 2026 کو PSCA کا ای چالان پورٹل echallan.psca.gop.pk کھولا۔ اس کے فارم میں گاڑی کا نمبر (ABC 000، ABC 0000، ABC-00-0000)، 13 ہندسوں والا شناختی کارڈ یا چیسس نمبر، کیپچا، Sign in کا لنک اور Public Safety ایپ کے لنک ہیں۔ اسی دن ہم نے پنجاب ٹریفک پولیس کا جرمانوں والا صفحہ پڑھا، جس سے اوپر کی ٹیبل لی گئی ہے۔ ePay Punjab اور ای خدمت مرکز کی تفصیل ستمبر 2026 میں ان کی سرکاری ویب سائٹس سے لی گئی تھی، 4 نومبر کو ePay کا صفحہ ہمارے لیے صحیح نہیں کھلا۔ WhatsApp پر چالان کی بات PSCA کے خلاف ورزیوں والے صفحے سے ہے۔ ادائیگی کی آخری تاریخ اور اضافی جرمانہ کسی سرکاری صفحے پر نہیں ملا، اس لیے یہاں نہیں لکھا۔

لکھاری کے بارے میں

Mariam Khalid, author at Pakistan Era

مریم خالد

Urdu Education & Public Services Journalist

مریم خالد کی تمام تحریریں