قصور اور قمبر شہداد کوٹ کی خواتین: الیکشن کمیشن کے پائلٹ منصوبے سے شناختی کارڈ اور ووٹ بنوائیں، دسمبر سے فروری تک
قصور اور قمبر شہداد کوٹ کی خواتین الیکشن کمیشن کے پائلٹ منصوبے سے دسمبر 2026 تا فروری 2027 شناختی کارڈ اور ووٹ میں مدد لے سکتی ہیں۔ طریقہ یہاں پڑھیں۔

قصور اور قمبر شہداد کوٹ کی خواتین الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کے ایک پائلٹ منصوبے کے تحت شناختی کارڈ اور ووٹ کے اندراج میں مدد لے سکتی ہیں۔ نومبر 2026 میں معلومات جمع ہوں گی اور اندراج کا کام دسمبر 2026 سے فروری 2027 تک چلے گا۔ الیکشن کمیشن کا ہدف قصور میں 115,689 اور قمبر شہداد کوٹ میں 59,156 خواتین تک پہنچنا ہے۔
جس عورت کے پاس شناختی کارڈ نہیں، وہ ووٹ نہیں ڈال سکتی۔ یہ منصوبہ ایسی خواتین کو بلاک بلاک تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ اس میں ان کے نادرا دفتر پہنچنے کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔
ہم نے 7 نومبر 2026 کو الیکشن کمیشن کی 31 اکتوبر 2026 کی اردو پریس ریلیز پڑھی۔ یہ 2 نومبر کو الیکشن کمیشن کے ہوم پیج پر درج تھی۔ ہم نے ابھی یہ منصوبہ زمین پر چلتا نہیں دیکھا۔
یہ منصوبہ 2 اضلاع میں اور 2 مرحلوں میں چلے گا
الیکشن کمیشن کے مطابق یہ منصوبہ پنجاب کے ضلع قصور اور سندھ کے ضلع قمبر شہداد کوٹ میں ہوگا۔ پہلے مرحلے میں، نومبر 2026 میں، معلومات جمع ہوں گی۔ دوسرے مرحلے میں، دسمبر 2026 سے فروری 2027 تک، اندراج کا اصل کام ہوگا۔ جن بلاکوں میں مرد اور خواتین ووٹروں کا فرق زیادہ ہے، انہیں پہلے لیا جائے گا۔
مردم شماری بلاک ایک چھوٹا علاقہ ہوتا ہے، اکثر ایک محلہ یا گاؤں کا ایک حصہ۔ ووٹر فہرست اسی حساب سے بنتی ہے۔ صنفی فرق کا مطلب ہے کہ فہرست میں مردوں اور خواتین کی تعداد میں کتنا فرق ہے۔
| تفصیل | قصور (پنجاب) | قمبر شہداد کوٹ (سندھ) |
|---|---|---|
| ہدف خواتین | 115,689 | 59,156 |
| معلومات جمع کرنا | نومبر 2026 | نومبر 2026 |
| اندراج کا کام | دسمبر 2026 سے فروری 2027 | دسمبر 2026 سے فروری 2027 |
| پہلی ترجیح | زیادہ صنفی فرق والے بلاک | زیادہ صنفی فرق والے بلاک |

سماجی کارکن مردم شماری بلاک کے حساب سے گھر گھر جائیں گے
الیکشن کمیشن کے مطابق مقامی سماجی کارکن اور شمار کنندگان گھر گھر جا کر اہل خواتین کی بلاک وار فہرستیں بنائیں گے۔ شمار کنندہ وہ شخص ہوتا ہے جو ہر گھر سے معلومات جمع کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ یہ لوگ یہ بھی بتائیں گے کہ شناختی کارڈ اور ووٹ کیوں ضروری ہیں۔
تعلیم اور صحت کے محکمے، سول سوسائٹی اور علاقے کے نمائندے بھی مدد کریں گے۔ یعنی ممکن ہے آپ کے گھر والوں سے سب سے پہلے کوئی استانی، صحت کی کارکن یا مقامی رضاکار بات کرے۔
ریلیز میں اس دورے کی کسی فیس کا ذکر نہیں۔ ہمارا مشورہ یہ ہے: اگر کوئی دروازے پر آ کر کسی وعدہ کردہ فائدے کے نام پر پیسے یا آپ کے شناختی کارڈ کی تصویر مانگے تو انکار کریں اور ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کے دفتر سے پوچھیں۔
نادرا کی وینیں اور سرکاری عمارتوں کے مراکز اندراج کریں گے
الیکشن کمیشن کے مطابق نادرا کی موبائل رجسٹریشن وینیں خواتین کے دروازے تک لائی جائیں گی، اور سرکاری عمارتوں میں اندراج کے مراکز بنائے جائیں گے۔ اس مہم میں شناختی کارڈ بننے کے یہی 2 طریقے ہیں۔
موبائل رجسٹریشن وین (MRV) نادرا کے ایک چھوٹے مرکز کی طرح کام کرتی ہے۔ ہماری گائیڈ نادرا موبائل رجسٹریشن وین بتاتی ہے کہ یہ کیا کر سکتی ہے اور پہلے آئیے پہلے پائیے کا قاعدہ کیسے چلتا ہے۔ ریلیز میں یہ نہیں لکھا کہ نادرا کی فیس معاف ہے، اس لیے اپنے کارڈ کی فیس کاؤنٹر پر پوچھ لیں۔
اگر آپ دسمبر کا انتظار نہیں کرنا چاہتیں تو ابھی جا سکتی ہیں۔ نادرا کے ہر مرکز میں خواتین کا ڈیسک ہے، اور ہمارا صفحہ خواتین کے نادرا مراکز اور فیملی ڈے بتاتا ہے کہ انہیں کیسے استعمال کریں۔ اپنے قریبی مرکز کا پتا کرنے کے لیے نادرا کو 1777 پر فون کریں۔
5 مرحلوں میں اپنا شناختی کارڈ اور ووٹ بنوائیں
پہلے 2 چیزیں چیک کریں، کیونکہ کچھ خواتین کے پاس ایک یا دونوں پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس کارڈ ہے تو اس کا نمبر 8300 پر بھیجیں۔ اگر جواب میں ووٹ نہ آئے تو صرف کارڈ سے آپ کا نام فہرست میں نہیں آیا، اور آپ کو نیچے والا فارم استعمال کرنا ہوگا۔
- اگر شناختی کارڈ ہے تو نمبر ڈیش اور خالی جگہ کے بغیر 8300 پر بھیج کر اپنا ووٹ چیک کریں۔
- اگر شناختی کارڈ نہیں تو خاندان کے کاغذات جمع کریں اور آنے والی ٹیم کو بتائیں یا نادرا کو 1777 پر فون کریں۔
- اپنے علاقے کی وین یا اندراج مرکز سے شناختی کارڈ بنوائیں۔
- کارڈ بننے کے بعد 8300 پر دوبارہ چیک کریں۔ اگر ووٹ نہ آئے تو ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کے پاس Form 21 جمع کرائیں۔
- اگر فہرست میں نام یا تفصیل غلط ہے تو ووٹر فہرست میں تفصیل درست کرنے کا طریقہ دیکھیں۔

کام کی نگرانی کون کرے گا اور صرف 2 اضلاع کیوں
الیکشن کمیشن کا صنف اور سماجی شمولیت کا ونگ، صوبائی الیکشن کمشنر، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اور الیکشن مانیٹرنگ اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر نادرا کے ساتھ مل کر اس مہم کی نگرانی کریں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق یہ ایک تجربہ ہے۔ مقصد ایسا نمونہ بنانا ہے جو دوسرے اضلاع میں بھی استعمال ہو سکے، اور راستے میں آنے والے مسائل کا جائزہ لینا ہے۔
اس لیے اگر آپ کسی اور ضلع میں رہتی ہیں تو یہ منصوبہ ابھی آپ کے لیے نہیں۔ موبائل وین کا شیڈول اور ہر نادرا مرکز کا خواتین ڈیسک آپ کے لیے کھلا ہے۔
| آپ کہاں رہتی ہیں | ابھی کیا کریں |
|---|---|
| قصور یا قمبر شہداد کوٹ، شناختی کارڈ نہیں | ٹیم کے آنے کا انتظار کریں یا ابھی نادرا مرکز جائیں |
| قصور یا قمبر شہداد کوٹ، شناختی کارڈ ہے | 8300 پر اپنا ووٹ چیک کریں |
| کوئی اور ضلع | نادرا کا خواتین ڈیسک استعمال کریں اور 8300 پر چیک کریں |
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
الیکشن کمیشن کے خواتین اندراج منصوبے میں کون سے اضلاع ہیں؟
پنجاب میں قصور اور سندھ میں قمبر شہداد کوٹ۔ یہ الیکشن کمیشن کی 31 اکتوبر 2026 کی پریس ریلیز میں درج ہے۔
اندراج کب شروع ہوگا؟
اندراج کا کام دسمبر 2026 سے فروری 2027 تک ہوگا۔ نومبر 2026 معلومات جمع کرنے کے لیے ہے۔
کتنی خواتین کو مدد ملے گی؟
الیکشن کمیشن کے مطابق قصور میں 115,689 اور قمبر شہداد کوٹ میں 59,156۔ ہمارے جوڑ کے مطابق کل تعداد 174,845 بنتی ہے۔
کیا اس منصوبے میں شناختی کارڈ مفت ہے؟
ریلیز میں یہ نہیں لکھا۔ اس میں اندراج آسان بنانے کی بات ہے، فیس معاف کرنے کی نہیں۔ ادائیگی سے پہلے نادرا کی وین یا مرکز پر پوچھ لیں۔
کیا کوئی میرے گھر آئے گا؟
الیکشن کمیشن کے مطابق مقامی سماجی کارکن اور شمار کنندگان گھر گھر جائیں گے۔ زیادہ صنفی فرق والے بلاکوں سے شروعات ہوگی۔
کیا مجھے ٹیم کے آنے کا انتظار کرنا ہوگا؟
نہیں۔ آپ کسی بھی وقت نادرا مرکز جا سکتی ہیں۔ قریبی مرکز معلوم کرنے کے لیے 1777 پر فون کریں۔
آخری بار کب چیک کیا اور ذرائع
آخری بار 7 نومبر 2026 کو چیک کیا۔ ہم نے الیکشن کمیشن کی اردو 31 اکتوبر 2026 کی پریس ریلیز اور وہ نادرا صفحات پڑھے جن کا حوالہ ہماری لنک شدہ گائیڈز میں ہے۔ ریلیز میں بلاکوں کی فہرست، کوئی ہیلپ لائن یا ہر علاقے کی شروع ہونے کی تاریخ نہیں دی گئی۔
لکھاری کے بارے میں

