پنجاب میں ڈرائیونگ لائسنس ای خدمت مرکز سے کیسے رینیو کریں: 15 کام کے دن
پنجاب کا ڈرائیونگ لائسنس ای خدمت مرکز سے خود جا کر رینیو کروائیں۔ شناختی کارڈ، پرانا لائسنس، میڈیکل سرٹیفکیٹ کی شرط، HBL میں فیس اور 15 کام کے دن کی مدت۔

مختصر جواب: پنجاب کا ڈرائیونگ لائسنس ای خدمت مرکز سے خود جا کر رینیو کروائیں۔ اصل شناختی کارڈ اور پرانا لائسنس ساتھ لے جائیں۔ عمر 50 سال سے زیادہ ہو، معذوری ہو یا کمرشل گاڑی کا لائسنس ہو تو میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی چاہیے۔ فیس HBL بینک میں جاتی ہے اور لائسنس 15 کام کے دنوں میں ملتا ہے۔
لائسنس کی میعاد گزر جائے تو ناکے پر مسئلہ بن سکتا ہے۔ کام مشکل نہیں، مگر ایک کاغذ بھی کم ہو تو کاؤنٹر سے واپس آنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے جانے سے پہلے یہ فہرست دیکھ لیں۔
ہم نے 7 نومبر 2026 کو پنجاب ای خدمت کی ویب سائٹ کا لائسنس رینیو کرنے والا صفحہ دوبارہ پڑھا۔ اس صفحے پر کاغذات، میڈیکل کی شرط اور مدت موجود ہیں، مگر فیس کی رقم نہیں۔ رقم ہم نے پنجاب کے لائسنس پورٹل DLIMS کی فیس کی فہرست سے لی ہے۔
خود جانا لازمی ہے، شناختی کارڈ اور پرانا لائسنس ساتھ رکھیں
صفحے پر لائسنس والے کا خود موجود ہونا لازمی لکھا ہے۔ کوئی رشتے دار یا ایجنٹ آپ کی جگہ یہ کام نہیں کر سکتا۔ ساتھ اپنا کارآمد شناختی کارڈ اور میعاد ختم لائسنس لے جائیں۔ طریقہ یہ ہے:
- اپنا اصل اور کارآمد شناختی کارڈ رکھیں۔
- میعاد ختم لائسنس ساتھ لیں۔
- اگر آپ نیچے دی گئی کسی فہرست میں آتے ہیں تو میڈیکل سرٹیفکیٹ بنوا لیں۔
- مرکز سے فیس کی رقم پوچھ کر HBL بینک میں جمع کروائیں۔
- پیر سے ہفتہ، صبح 9 سے شام 5 بجے کے درمیان خود مرکز جائیں۔
- لائسنس آنے تک بینک کی رسید اور مرکز کی رسید سنبھال کر رکھیں۔

مرکز کے اوقات
مرکز پیر سے ہفتہ صبح 9 سے شام 5 بجے تک کھلتا ہے۔ دوپہر 1 سے 2 بجے تک وقفہ ہوتا ہے۔ جمعہ کو دوپہر 12:30 سے 2:30 بجے تک مرکز بند رہتا ہے۔ اس لیے جمعہ کے دن صبح جلدی پہنچنا بہتر ہے۔
میڈیکل سرٹیفکیٹ تین صورتوں میں چاہیے
صفحے کے مطابق میڈیکل سرٹیفکیٹ 50 سال سے زیادہ عمر والوں، معذور افراد اور کمرشل گاڑی کے لائسنس والوں کے لیے ضروری ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ سرکاری طور پر رجسٹرڈ ڈاکٹر سے ہونا چاہیے۔ باقی ڈرائیوروں کے لیے صفحے پر یہ شرط نہیں لکھی۔
| ڈرائیور | میڈیکل سرٹیفکیٹ |
|---|---|
| 50 سال سے زیادہ عمر | چاہیے |
| معذور فرد | چاہیے |
| کمرشل گاڑی کا لائسنس | چاہیے |
| باقی نجی ڈرائیور | صفحے پر شرط نہیں لکھی |

ڈاکٹر سے کہیں کہ سرٹیفکیٹ پر آپ کا پورا نام اور شناختی کارڈ نمبر صاف لکھے۔ اس سے کاؤنٹر پر سوال کم ہوتے ہیں۔ یہ ہمارا مشورہ ہے، صفحے کی شرط نہیں۔
فیس HBL بینک میں جاتی ہے اور رقم ہر کیس میں الگ ہے
ای خدمت کے صفحے کے مطابق فیس درخواست دینے والا خود HBL بینک کے ذریعے دیتا ہے۔ رقم لائسنس کی حالت کے حساب سے بدلتی ہے، اور اس صفحے پر کوئی رقم نہیں لکھی۔ پنجاب کے لائسنس پورٹل DLIMS پر البتہ رینیو کی فیس کی فہرست موجود ہے:
| لائسنس | رینیو فیس (1 سال) | کوریئر | جرمانہ: 1 سے 3 مہینے | جرمانہ: 3 مہینے سے 1 سال | جرمانہ: 1 سال |
|---|---|---|---|---|---|
| موٹر سائیکل | 450 روپے | 480 روپے | 225 روپے | 450 روپے | 1,125 روپے |
| کار یا جیپ | 1,350 روپے | 480 روپے | 675 روپے | 1,350 روپے | 3,375 روپے |
| موٹر سائیکل اور کار | 1,350 روپے | 480 روپے | 675 روپے | 1,350 روپے | 3,375 روپے |
| LTV یا HTV | 1,850 روپے | 480 روپے | 925 روپے | 1,850 روپے | 4,625 روپے |
یہ فہرست DLIMS کی ہے۔ ای خدمت کے صفحے پر یہ رقمیں نہیں لکھیں، اس لیے مرکز میں ادائیگی سے پہلے اپنی رقم پوچھ لیں۔ DLIMS کے مطابق اصل لائسنس پاس نہ ہو تو ڈپلیکیٹ کی فیس بھی شامل ہو جاتی ہے۔ کئی قسموں والے لائسنس پر سب سے زیادہ فیس والی قسم کی رقم لگتی ہے۔
تفصیل ہماری گائیڈ بائیک اور کار لائسنس کی فیس پنجاب میں ہے۔ مرکز کے باہر کسی کو نقد پیسے نہ دیں، اور بینک کی رسید ضرور لیں۔
لائسنس 15 کام کے دنوں میں ملتا ہے
صفحے پر رینیو شدہ لائسنس کے لیے 15 کام کے دن لکھے ہیں۔ چھٹیاں نکال کر یہ تقریباً تین ہفتے بنتے ہیں۔ اس لیے میعاد ختم ہونے سے کم از کم ایک مہینہ پہلے کام شروع کر دیں۔
صفحے پر یہ نہیں لکھا کہ اس دوران رسید لائسنس کی جگہ چل جائے گی۔ اس لیے ہم اس کا وعدہ نہیں کر سکتے۔ گاڑی چلانی ضروری ہو تو مرکز سے پوچھ لیں۔ لائسنس کا حال جاننے کے لیے ہماری گائیڈ لائسنس آن لائن چیک اور ٹریک کرنا پڑھیں۔
مرکز نہ جا سکیں تو دوسرا راستہ دیکھیں
ای خدمت مرکز والے طریقے میں خود جانا لازمی ہے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو ہماری گائیڈ پنجاب میں لائسنس آن لائن رینیو کرنا پڑھیں۔ اس کے مراحل اور فیس الگ ہو سکتے ہیں، اس لیے پہلے موازنہ کر لیں۔ بیرون ملک رہنے والوں کے لیے الگ گائیڈ ہے: بیرون ملک سے میعاد ختم لائسنس رینیو کرنا۔
لائسنس مل جائے تو چالان کا ریکارڈ بھی صاف رکھیں۔ چیک کرنے کا طریقہ ہماری اردو گائیڈ پنجاب ٹریفک چالان آن لائن چیک کریں میں ہے۔
نیا لائسنس ملتے ہی تفصیل چیک کریں
لائسنس ہاتھ میں آتے ہی نام، شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کی قسم اور میعاد کی تاریخ پڑھ لیں۔ کوئی غلطی ہو یا کوئی قسم رہ گئی ہو تو فوراً مرکز کو بتائیں۔ غلطی جلدی پکڑی جائے تو درست کروانا آسان ہوتا ہے۔
لائسنس بہت پہلے ختم ہو چکا ہو تو شاید کچھ اور شرطیں بھی لگیں۔ صفحے پر اس کا ذکر نہیں، اس لیے سفر سے پہلے مرکز سے پوچھ لیں۔ اگر 15 کام کے دن گزرنے پر بھی لائسنس نہ آئے تو رسید لے کر مرکز جائیں اور وجہ پوچھیں۔ کوئی شخص کام جلدی کروانے کے نام پر پیسے مانگے تو نہ دیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا کوئی اور میری جگہ لائسنس رینیو کروا سکتا ہے؟
نہیں۔ صفحے پر لائسنس والے کا خود موجود ہونا لازمی لکھا ہے۔
رینیو میں کتنا وقت لگتا ہے؟
صفحے کے مطابق لائسنس 15 کام کے دنوں میں ملتا ہے۔
میڈیکل سرٹیفکیٹ کس کو چاہیے؟
50 سال سے زیادہ عمر والوں، معذور افراد اور کمرشل گاڑی کے لائسنس والوں کو۔
رینیو کی فیس کتنی ہے؟
ای خدمت کے صفحے پر رقم نہیں لکھی۔ DLIMS کی فہرست میں 1 سال کی رینیو فیس موٹر سائیکل کے 450 روپے اور کار کے 1,350 روپے ہے، کوریئر کے 480 روپے الگ ہیں۔
کون سے کاغذات چاہییں؟
کارآمد شناختی کارڈ، میعاد ختم لائسنس، اور جہاں شرط ہو وہاں میڈیکل سرٹیفکیٹ۔
میعاد ختم ہونے کے بعد جرمانہ کتنا ہے؟
DLIMS کی فہرست میں جرمانہ مدت کے حساب سے بڑھتا ہے۔ کار کے لیے 675، 1,350 اور 3,375 روپے لکھا ہے۔ پہلے مہینے کی رعایت کے بارے میں مرکز سے پوچھ لیں۔
آخری بار کب چیک کیا اور ذرائع
آخری بار 7 نومبر 2026 کو چیک کیا۔ ہم نے پنجاب ای خدمت کا لائسنس رینیو والا صفحہ اور DLIMS کی فیس کی فہرست پڑھی۔ ہم مرکز نہیں گئے، اس لیے یہ نہیں کہہ سکتے کہ کاؤنٹر پر DLIMS والی رقم ہی لی جاتی ہے۔ ادائیگی سے پہلے بینک یا مرکز سے رقم کی تصدیق کر لیں۔
لکھاری کے بارے میں

