مواد پر جائیں
Pakistan Era logoاردو
گائیڈزRead in English

کیا NCCIA پاکستان میں آپ کا فون اور تصاویر دیکھ سکتی ہے؟ قانون کیا کہتا ہے

کیا NCCIA آپ کا فون یا گیلری دیکھ سکتی ہے؟ پیکا قانون کے چھ راستے، ہر ایک کے لیے وارنٹ یا عدالتی حکم کی شرط، اور جعلی کال یا نوٹس آئے تو کیا کریں۔

Sana Iqbal, author at Pakistan Eraتحریر: ثنا اقبال8 منٹ کی پڑھائی
لکڑی کی گہری میز پر رکھی پیتل کی ایک چابی، NCCIA کی فون تک رسائی کے قانون کی گائیڈ کے لیے

مختصر جواب: نہیں۔ پاکستان کے سائبر کرائم قانون میں ہمیں ایسی کوئی دفعہ نہیں ملی جو NCCIA کو اپنی مرضی سے کسی کا فون یا گیلری کھولنے کی اجازت دے۔ ہر اختیار کے لیے عدالتی وارنٹ، تحریری نوٹس یا کسی خاص جرم کا مقدمہ ضروری ہے۔ کسی کیس میں NCCIA آپ کا فون قبضے میں لے سکتی ہے۔ مگر بغیر وجہ آپ کی تصاویر نہیں دیکھ سکتی۔

ہر چند ماہ بعد ایک پیغام گردش کرتا ہے: "NCCIA آپ کی گیلری دیکھ سکتی ہے، ابھی تصاویر ڈیلیٹ کریں۔" یہ پیغام ڈراتا ہے، مگر زیادہ تر غلط ہے۔ قانون اس افواہ سے کہیں زیادہ واضح اور محدود ہے۔

NCCIA کا پورا نام نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ہے۔ یہ سائبر جرائم کی تفتیش کرنے والا سرکاری ادارہ ہے۔ اس کے اختیارات پیکا قانون (PECA)، یعنی Prevention of Electronic Crimes Act 2016، میں لکھے ہیں۔ ہم نے 7 نومبر 2026 کو قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے 2025 کی ترمیم کا متن دوبارہ کھول کر پڑھا، جس نے NCCIA بنائی۔ باقی دفعات ہماری ٹیم نے 12 اکتوبر 2026 کو PECA کے مکمل متن میں پڑھی تھیں۔

NCCIA کے پاس کسی کا بھی فون دیکھنے کا عام اختیار نہیں

قانون NCCIA کو جو اختیارات دیتا ہے، وہ کسی جرم کی تفتیش سے جڑے ہیں۔ ہمیں کوئی ایسی دفعہ نہیں ملی جو ہر شہری کے فون، گیلری یا چیٹ کو عام طور پر دیکھنے کی اجازت دے۔ بلکہ اسی قانون کی دفعہ 3 کے تحت کسی کے آلے تک بغیر اجازت رسائی خود ایک جرم ہے۔

2025 کی ترمیم نے دفعہ 29 بدل دی۔ نئی دفعہ کہتی ہے کہ وفاقی حکومت NCCIA قائم کرے گی، جو اس قانون کے جرائم کی انکوائری، تفتیش اور مقدمے کا کام کرے گی۔ اس کے افسر برابر عہدے کے پولیس افسر سمجھے جائیں گے۔ FIA کا سائبر کرائم ونگ ختم ہو جائے گا اور اس کے کیس NCCIA کو منتقل ہوں گے۔ نئی دفعہ 30 کے مطابق اس قانون کے جرم کی تفتیش صرف NCCIA کا مجاز افسر کر سکتا ہے۔

یہ صرف یہ بتاتا ہے کہ تفتیش کون کرے گا۔ یہ فون دیکھنے کا عام اختیار نہیں۔ تلاشی اور قبضے کے اختیارات الگ دفعات میں ہیں، اور ہر ایک کی شرطیں ہیں۔

قانون فون کے ڈیٹا تک چھ راستے دیتا ہے، ہر ایک کی شرط ہے

PECA میں کئی راستے ہیں۔ کچھ کے لیے عدالت کا حکم چاہیے۔ کچھ کسی کمپنی یا شخص کو نوٹس ہیں۔ کون سا راستہ لگے گا، یہ اس پر ہے کہ ادارے کو آپ کا آلہ چاہیے، آپ کا محفوظ ڈیٹا، یا صرف کال کا ریکارڈ۔

راستہPECA دفعہکیا ضروری ہے
آلے کی تلاشی اور قبضہ33کسی خاص جگہ اور واضح طور پر بتائے گئے جرم کے لیے عدالتی وارنٹ
محفوظ مواد دینے کا حکم34عدالت وجوہات لکھ کر ڈیٹا رکھنے والے کو حکم دے
ڈیٹا محفوظ رکھنے کا نوٹس31تحریری نوٹس، زیادہ سے زیادہ 90 دن، اور 24 گھنٹے میں عدالت کو اطلاع
ٹیلی کام کمپنی سے کال ریکارڈ32عدالتی وارنٹ؛ کمپنیاں یہ ریکارڈ کم از کم ایک سال رکھتی ہیں
براہ راست مواد جمع کرنا39عدالتی حکم، عام طور پر 7 دن سے زیادہ نہیں، عدالت بڑھا سکتی ہے
فون کے مالک سے مدد35تفتیش کے دوران رسائی دینے کا تقاضا، پاس ورڈ یا ڈی کرپشن سمیت
وہ قانونی راستے جن سے NCCIA فون کا ڈیٹا لے سکتی ہے اور ہر ایک کی شرط

کال ریکارڈ (traffic data) کا مطلب ہے کس نے کس سے کب رابطہ کیا۔ اس میں تصاویر یا پیغامات شامل نہیں۔ اصل مواد (content data) وہ چیز ہے جو آپ نے بھیجی یا رکھی، جیسے تصاویر اور پیغامات کا متن۔

فون کی تصاویر تک صرف قبضے یا عدالتی حکم سے پہنچا جا سکتا ہے

فون میں رکھی تصاویر تک دو ہی راستے ہیں۔ یا ادارہ وارنٹ لے کر فون قبضے میں لے، یا عدالت ڈیٹا رکھنے والے کو ڈیٹا دینے کا حکم دے۔ کلاؤڈ بیک اپ دوسری قسم میں آتا ہے، کیونکہ وہ ڈیٹا ایک کمپنی کے پاس ہوتا ہے۔

دفعہ 33 کے تحت عدالت کو مطمئن ہونا ہوتا ہے کہ کسی خاص جرم کے لیے یہ آلہ یا ڈیٹا ضروری ہے۔ وارنٹ کے بعد افسر بتائی گئی جگہ میں جا کر متعلقہ آلہ یا ڈیٹا حاصل یا محفوظ کر سکتا ہے۔

ایک استثنا ہے۔ دفعہ 10 کے سائبر دہشت گردی کے جرم میں، اگر وارنٹ لینے میں ڈیٹا ضائع ہونے کا خطرہ ہو، تو گزیٹڈ افسر بغیر وارنٹ کارروائی کر سکتا ہے۔ اسے 24 گھنٹے میں عدالت کو بتانا ہوتا ہے۔ یہ ایک محدود صورت ہے، عام معاملہ نہیں۔

دفعہ 35 یہ بھی کہتی ہے کہ افسر تناسب سے کام لے اور اس ڈیٹا کو نہ چھیڑے جو جرم کا حصہ نہیں۔ آلہ آخری راستے کے طور پر ہی قبضے میں لیا جائے، جب ڈیٹا کاپی کرنے کا کوئی اور طریقہ کام نہ کرے۔

کالز، پیغامات اور ایپ کمپنیوں کے لیے الگ قواعد

ٹیلی کام کمپنی کے لیے PECA کہتا ہے کہ وہ کال ریکارڈ کم از کم ایک سال رکھے اور عدالتی وارنٹ پر دے۔ سوشل میڈیا یا ایپ کمپنی کو ادارہ ڈیٹا محفوظ رکھنے کا نوٹس بھیج سکتا ہے یا عدالت سے حکم لے سکتا ہے۔ کمپنی پر یہ لازم نہیں کہ وہ پہلے سے اپنے صارفین پر نظر رکھے۔

دفعہ 38 کہتی ہے کہ سروس دینے والی کمپنی پر اپنی سروس کے مواد کی خود نگرانی کی ذمہ داری نہیں۔ کمپنی متاثرہ صارف کو نوٹس کے بارے میں بتا بھی سکتی ہے۔ ادارہ کمپنی سے 14 دن تک تفتیش کو خفیہ رکھنے کا کہہ سکتا ہے، اور عدالت یہ مدت بڑھا سکتی ہے۔

دفعہ 39 کے تحت براہ راست مواد جمع کرنا ایک نامزد ادارے کے ذریعے ہوتا ہے، جو Investigation for Fair Trial Act 2013 کے تحت مقرر ہے۔ عدالتی حکم میں وجہ لکھی ہونی چاہیے، اور شروع میں مدت 7 دن سے زیادہ نہیں۔

کوئی سرکاری فہرست فون برانڈز کو محفوظ یا غیر محفوظ نہیں کہتی

ہمیں NCCIA، PTA یا حکومت کی کوئی ہدایت نہیں ملی جو فون برانڈز یا ماڈلز کو اس ادارے سے محفوظ یا خطرے میں بتائے۔ فون بنانے والی کمپنیاں اپنی سیکیورٹی کی تفصیل خود دیتی ہیں۔ اپڈیٹ کے سالوں اور انکرپشن کا موازنہ ہر برانڈ کتنے سال اپڈیٹ دیتا ہے میں ہے۔

عام آدمی کو اصل خطرہ ادارے سے نہیں۔ اصل خطرہ گم شدہ فون، جعلی APK ایپ، چوری شدہ SIM یا فراڈ کال ہے۔ ان سے بچنے کے لیے فون میں جاسوسی ایپ چیک کریں اور Android پر ایپ کی اجازتیں دیکھیں۔

AI اور نگرانی کے نظام کے بارے میں کیا رپورٹ ہوا ہے

ہمیں NCCIA کا کوئی ایسا صفحہ نہیں ملا جو کسی AI نظام کا ذکر کرے جو "خود رپورٹ کرتا ہو"۔ رپورٹس میں جو بات ہے، وہ اس سے کہیں محدود ہے، اور اس میں کسی کا فون کھولنے کا ذکر نہیں۔

  • رپورٹ ہوا ہے کہ NCCIA نے 2026 میں Katalyst نام کا ایک AI ٹول شروع کیا، جو برطانیہ اور پاکستان کے UPSCALE پروگرام کے ساتھ بنا۔ اس کا کام بچوں سے زیادتی کی رپورٹس کو ترتیب دینا بتایا گیا ہے، شہریوں کے فون پڑھنا نہیں۔ ہم اس کی تصدیق کسی سرکاری صفحے پر نہیں کر سکے۔
  • رپورٹ ہوا ہے کہ پاکستان میں ایک ویب مانیٹرنگ سسٹم لگا ہے جو نیٹ ورک کی سطح پر انٹرنیٹ ٹریفک دیکھتا ہے۔ PTA پہلے اسے "web management system" کہہ چکی ہے اور فائر وال ہونے سے انکار کر چکی ہے۔ ہم PTA کا وہ صفحہ نہیں پڑھ سکے۔

نیٹ ورک کا نظام وہ ٹریفک دیکھتا ہے جو نیٹ ورک سے گزرتی ہے۔ جو تصویر کبھی آپ کے فون سے باہر نہیں گئی، وہ اسے نظر نہیں آتی۔ ہمارے پاس کوئی سرکاری تحریر نہیں جو اس کے برعکس کہے۔

کوئی کال یا نوٹس آئے تو کیا کریں

فون پر بحث نہ کریں اور کوئی کوڈ نہ بتائیں۔ اصل نوٹس تحریری ہوتا ہے، اس میں کیس یا جرم کا نام ہوتا ہے، اور وہ باقاعدہ طریقے سے آتا ہے۔ اس کی تصدیق ادارے کے شائع شدہ نمبر سے کریں، اس نمبر سے نہیں جس سے کال آئی۔

  1. فون بند کریں اور اسی نمبر پر واپس کال نہ کریں۔
  2. نمبر، تاریخ، وقت اور جو کہا گیا، لکھ لیں۔
  3. NCCIA کا ہیلپ لائن اور شکایت پورٹل خود تلاش کریں۔ نمبر ہماری NCCIA دفاتر کے نمبروں والی فہرست میں ہیں۔
  4. کسی بھی نوٹس کو تحریری شکل میں مانگیں، جس میں کیس نمبر، افسر کا نام اور تھانے کا پتہ ہو۔
  5. کسی دفتر جانے سے پہلے کسی وکیل کا نمبر پاس رکھیں۔
NCCIA کے نام سے کال یا نوٹس آنے پر کیے جانے والے پانچ اقدامات

جعلی NCCIA اور PTA کال کرنے والے نقلی نمبر استعمال کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ جعلی PTA، NCCIA یا بینک کال والی گائیڈ میں ہے۔ اگر اصل افسر رابطہ کرے، تو ثبوت تصدیق شدہ تحریری نوٹس ہے، فون کال نہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا NCCIA میرے علم کے بغیر میرے WhatsApp پیغامات دیکھ سکتی ہے؟

ہمیں ایسا کوئی اختیار نہیں ملا۔ جو راستے ہم نے پڑھے وہ یہ ہیں: مواد کے لیے عدالتی حکم، وارنٹ کے تحت آپ کے فون کا قبضہ، اور تفتیش کے دوران دفعہ 35 کے تحت رسائی دینے کا تقاضا۔

کیا NCCIA دور بیٹھے میری گیلری دیکھ سکتی ہے؟

ہمیں بغیر وارنٹ یا حکم کے کسی کی گیلری دور سے دیکھنے کی کوئی دفعہ نہیں ملی۔ کسی آلے تک بغیر اجازت رسائی دفعہ 3 کے تحت جرم ہے۔

کیا مجھے اپنا فون پاس کوڈ بتانا پڑے گا؟

دفعہ 35 کے تحت مجاز افسر تفتیش کے لیے پاس ورڈ یا ڈی کرپشن کی معلومات رکھنے والے سے رسائی مانگ سکتا ہے۔ کوئی خاص مطالبہ درست ہے یا نہیں، یہ کیس پر منحصر ہے۔ جواب دینے سے پہلے وکیل سے بات کریں۔

کیا NCCIA کو میرا فون لینے کے لیے وارنٹ چاہیے؟

عام طور پر ہاں۔ دفعہ 33 کے لیے کسی خاص جگہ اور خاص جرم کا عدالتی وارنٹ ضروری ہے۔ واحد استثنا سائبر دہشت گردی کا جرم ہے، جس میں 24 گھنٹے میں عدالت کو بتانا ہوتا ہے۔

کون سا فون برانڈ NCCIA سے سب سے محفوظ ہے؟

کوئی سرکاری ذریعہ اس کی درجہ بندی نہیں کرتا۔ مضبوط پاس کوڈ، تازہ اپڈیٹ اور انکرپشن چوری اور ہیکنگ سے بچاتے ہیں۔ قانون کسی برانڈ کے نام پر نہیں رکتا۔

کیا NCCIA کی طرف سے OTP مانگنے والی کال اصلی ہو سکتی ہے؟

نہیں۔ کوئی اصلی ادارہ یا بینک فون پر آپ کا OTP نہیں مانگتا۔ فون بند کریں اور خود تلاش کیے گئے نمبر سے تصدیق کریں۔

آخری بار کب چیک کیا اور ذرائع

7 نومبر 2026 کو ہم نے قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر Prevention of Electronic Crimes (Amendment) Bill 2025 کا متن دوبارہ پڑھا، جس میں نئی دفعہ 29 (NCCIA کا قیام اور FIA سائبر ونگ کا خاتمہ) اور دفعہ 30 (صرف مجاز افسر تفتیش کرے گا) ہیں۔ دفعات 3، 31 سے 35، 38 اور 39 ہماری ٹیم نے 12 اکتوبر 2026 کو PECA 2016 کے مکمل متن میں پڑھیں (2023 تک کی ترامیم کے ساتھ)۔ قانون کا متن Pakistan Code پر بھی ہے۔ یہ قانون کی سادہ تشریح ہے، قانونی مشورہ نہیں۔

لکھاری کے بارے میں