مواد پر جائیں
Pakistan Era logoاردو
گائیڈزRead in English

NCCIA دفاتر کے نمبر: ہیلپ لائن 1799، WhatsApp اور 16 سائبر کرائم سینٹرز کے پتے

NCCIA کے 16 سائبر کرائم سینٹرز کے فون، WhatsApp، ای میل اور پتے صوبہ وار، ہیلپ لائن 1799، اور سینٹر جاتے وقت ساتھ کیا لے جائیں۔ سب NCCIA کی اپنی ویب سائٹ سے۔

Sana Iqbal, author at Pakistan Eraتحریر: ثنا اقبال7 منٹ کی پڑھائی
اسلام آباد میں صاف نیلے آسمان کے نیچے ایک جدید سرکاری دفتر کی عمارت، سامنے سبز درخت اور لان

فوری جواب: NCCIA کی ہیلپ لائن 1799 ہے، جو 24 گھنٹے کھلی رہتی ہے۔ اپنے شہر کے کیس کے لیے NCCIA کے 16 سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر ہیں۔ ہر سینٹر کا اپنا لینڈ لائن نمبر، WhatsApp نمبر اور ای میل ہے۔ ہر WhatsApp نمبر 0326-83993 سے شروع ہوتا ہے۔ پوری فہرست نیچے صوبہ وار دی گئی ہے۔

NCCIA کا پورا نام نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ہے۔ یہ وہ سرکاری ادارہ ہے جو اب آن لائن فراڈ، ہیکنگ، جعلی اکاؤنٹ اور بلیک میلنگ جیسے جرائم کی تفتیش کرتا ہے۔ پہلے یہ کام FIA کا سائبر کرائم ونگ کرتا تھا۔ اسی لیے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بہت سے پرانے نمبر اب کام کے نہیں۔

اس صفحے کا ہر نمبر NCCIA کی اپنی ویب سائٹ nccia.gov.pk کے دفاتر والے صفحے سے لیا گیا ہے۔ ہماری ٹیم نے یہ صفحہ 24 اکتوبر 2026 کو براؤزر میں کھول کر پڑھا۔ 7 نومبر 2026 کو ہم نے دوبارہ کھولنے کی کوشش کی، مگر ویب سائٹ نے ہماری خودکار درخواست رد کر دی۔ اس لیے نیچے کی معلومات 24 اکتوبر کے ریکارڈ سے ہیں۔ کال کرنے سے پہلے اپنے براؤزر میں NCCIA کا صفحہ ایک بار دیکھ لیں۔

پورے پاکستان کے لیے NCCIA ہیلپ لائن 1799 ہے

کسی بھی موبائل نیٹ ورک سے 1799 ملائیں۔ یہ NCCIA کی 24/7 ہیلپ لائن ہے اور NCCIA کی ویب سائٹ کے ہر صفحے کے اوپر لکھی ہے۔ فوری شکایت اور عام رہنمائی کے لیے اسے استعمال کریں۔ اصل کیس کے لیے بعد میں اپنے شہر کے سینٹر سے رابطہ رکھیں۔

NCCIA کا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ہے۔ پتہ: نیشنل پولیس فاؤنڈیشن بلڈنگ، دوسری منزل، سیکٹر G-10/4۔ NCCIA کی ویب سائٹ پر رابطے کے لیے +92 51 9106692 اور helpdesk@nccia.gov.pk لکھے ہیں۔ دفاتر والے صفحے پر ہیڈ کوارٹر کے تین اور نمبر بھی ہیں: 051-9106690، 051-9106691 اور 051-8777685۔

پورے پاکستان کے لیے NCCIA سائبر کرائم ہیلپ لائن 1799

پنجاب میں NCCIA کے 6 سینٹر ہیں، سب سے زیادہ کیس لاہور میں

NCCIA کے مطابق پنجاب میں لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان اور ساہیوال میں سینٹر ہیں۔ لاہور میں ڈائریکٹر سینٹرل کا دفتر اور شکایت سینٹر بھی ہے۔ NCCIA کے 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے کل رپورٹ شدہ سائبر جرائم کا 21 فیصد لاہور سے آتا ہے۔

سینٹرفونWhatsAppای میل
لاہور042-99334043، 042-993320500326-8399304Incharge.ccrc.lhr@nccia.gov.pk
راولپنڈی051-9274782، 051-92747850326-8399324incharge.ccrc.rwp@nccia.gov.pk
گوجرانوالہ055-9330015، 055-93300160326-8399323incharge.ccrc.guj@nccia.gov.pk
فیصل آباد041-93308650326-8399305incharge.ccrc.fsl@nccia.gov.pk
ملتان061-6522155، 061-93309990326-8399311incharge.ccrc.mtn@nccia.gov.pk
ساہیوال040-92000580326-8399313incharge.ccrc.swl@nccia.gov.pk

پتے، جیسے NCCIA نے لکھے ہیں:

  • لاہور تھانہ: اسٹریٹ نمبر 15، وفاقی کالونی، کینال روڈ۔ ڈائریکٹر سینٹرل اور شکایت سینٹر: ہاؤس نمبر 2-A، ٹیک سوسائٹی، ویسٹ بینک کینال روڈ۔
  • راولپنڈی: ہاؤس نمبر 162/2، پنج سڑکی، شیل پٹرول پمپ کے قریب، آدم جی روڈ، صدر۔
  • گوجرانوالہ: غوث پلازہ، سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی، لاہور روڈ۔
  • فیصل آباد: ضیا ٹاؤن، اسٹریٹ نمبر 2، ایسٹ کینال روڈ، کشمیر پل کے قریب۔
  • ملتان: ہاؤس نمبر 06، اسٹریٹ 3، شالیمار ٹاؤن، بوسن ٹاؤن۔
  • ساہیوال: RPO آفس، ہڑپہ روڈ، آفیسرز کالونی۔
پاکستان کے ہر صوبے میں NCCIA سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹرز کی تعداد

سندھ میں 3 سینٹر ہیں: کراچی، حیدرآباد اور سکھر

کراچی کا سینٹر اور ڈائریکٹر ساؤتھ کا دفتر ایک ہی جگہ ہیں، دارالصحت ہسپتال کے قریب، گلستان جوہر۔ حیدرآباد اور سکھر کے سینٹر اندرون سندھ کے لیے ہیں۔ ہر سینٹر کے دو لینڈ لائن نمبر اور اپنا WhatsApp نمبر ہے۔

سینٹرفونWhatsAppپتہ
کراچی021-99333968، 021-993339500326-8399316دارالصحت ہسپتال کے قریب، گلستان جوہر
حیدرآباد022-9250009، 022-92500100326-8399314پلاٹ A-100، سائٹ ایریا، کسٹم ہاؤس کے قریب
سکھر071-9310872، 071-93108490326-8399315ہاؤس نمبر A-126، سندھ ہاؤسنگ سوسائٹی، NADRA آفس کے قریب، ایئرپورٹ روڈ

ای میل ایک ہی طرز پر ہیں: incharge.ccrc.khi، incharge.ccrc.hyd اور incharge.ccrc.skr، اور ہر ایک کے آخر میں @nccia.gov.pk لگتا ہے۔

خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں 7 سینٹر

خیبر پختونخوا میں تین سینٹر ہیں: پشاور، ایبٹ آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان۔ بلوچستان میں دو ہیں: کوئٹہ اور گوادر۔ اسلام آباد اور گلگت میں ایک ایک سینٹر ہے۔ آزاد کشمیر کا کوئی سینٹر NCCIA کی فہرست میں نہیں۔

سینٹرفونWhatsAppپتہ
اسلام آباد051-93346270326-8399301پلازہ 5/C، اسٹریٹ نمبر 169، G-13/3
پشاور091-9216234، 091-92162510326-8399319لاورگنی فلیٹس، عبدرہ روڈ
ایبٹ آباد0992-921587، 0992-9215880326-8399318ہاؤس نمبر 62، بلال مسجد کے قریب، بلال ٹاؤن، PMA روڈ
ڈیرہ اسماعیل خان0966-7105370326-839932025-A شامی روڈ، کینٹونمنٹ
کوئٹہ081-9202722، 081-92027060326-8399312بنگلہ نمبر 105، تاجک آباد، مین کلی شابو روڈ
گوادر086-42101180326-8399310پلاٹ M-15، NA بلاک، اسٹریٹ نمبر 06، نیو ٹاؤن فیز 1
گلگت05811-960707، 05811-9404200326-8399317GDA آفس کے قریب، ریور روڈ، چنار باغ

آزاد کشمیر کے رہنے والے آن لائن شکایت درج کر سکتے ہیں، کیونکہ NCCIA کے شکایت فارم میں میرپور، مظفرآباد اور کوٹلی جیسے شہر موجود ہیں۔ سینٹر جانا پڑے تو اسلام آباد یا راولپنڈی کا سینٹر سب سے قریب ہے۔

کال سے پہلے شناختی کارڈ، تاریخ اور ثبوت تیار رکھیں

کال کے پہلے منٹ میں اپنا نام، شناختی کارڈ نمبر، واقعے کی تاریخ اور جس ایپ یا ویب سائٹ پر واقعہ ہوا، اس کا نام بتا دیں۔ اس سے بات جلدی آگے بڑھتی ہے۔ NCCIA کے FAQ صفحے کے مطابق شکایت کی تصدیق کے لیے آپ کو خود سینٹر جانا ہوگا۔ اس لیے اس دورے کی تیاری پہلے سے کر لیں۔

NCCIA جو چیزیں مانگتا ہے، ان کی بنیاد پر ہمارا مشورہ یہ ہے:

  1. سب سے پہلے ثبوت محفوظ کریں: اسکرین شاٹ، چیٹ ایکسپورٹ، فراڈ کرنے والے کا نمبر، لنک اور ٹرانزیکشن ID۔
  2. 1799 پر یا اوپر کی فہرست سے اپنے شہر کے سینٹر پر کال کریں اور مختصر بتائیں کہ کیا ہوا۔
  3. سینٹر کے انچارج کے نام ایک مختصر درخواست لکھیں۔ اس میں اپنا نام، پتہ، شہر اور فون نمبر لکھیں۔
  4. درخواست، شناختی کارڈ کی کاپی اور ثبوت کی کاپیاں لے کر سینٹر جائیں۔ NCCIA کا FAQ اس اصول کے لیے S.R.O. 05/2020 کا حوالہ دیتا ہے۔
  5. انکوائری افسر کا نام پوچھ لیں اور بعد میں رابطے کے لیے WhatsApp نمبر استعمال کریں۔
پاکستان میں NCCIA سینٹر کو سائبر کرائم رپورٹ کرنے کے مراحل

کیس آگے نہ بڑھے تو ہماری گائیڈ NCCIA شکایت کا اسٹیٹس چیک کریں دیکھیں۔ شکایت درج کرنے کا پورا طریقہ سائبر کرائم رپورٹ کرنے کی گائیڈ میں ہے۔

NCCIA کے نام پر آنے والی جعلی کال سے ہوشیار رہیں

یہ نمبر آپ کے کال کرنے کے لیے ہیں۔ اگر کوئی نامعلوم نمبر سے کال کرے اور کہے کہ وہ سائبر کرائم ایجنسی سے ہے، اور آپ سے OTP، کارڈ نمبر یا "کیس بند کرنے" کے لیے پیسے مانگے، تو فوراً فون بند کر دیں۔ یہ فراڈ ہے۔ OTP وہ ایک بار کا کوڈ ہے جو بینک یا ایپ SMS میں بھیجتی ہے، اور یہ کسی کو نہیں بتانا چاہیے۔

ایسی کالوں کو پہچاننے کا طریقہ ہم نے جعلی NCCIA یا PTA کال والی گائیڈ میں تفصیل سے لکھا ہے۔ اور اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ قانون NCCIA کو آپ کے فون تک کتنی رسائی دیتا ہے، تو کیا NCCIA آپ کے فون کی تصاویر دیکھ سکتی ہے پڑھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

NCCIA کا ہیلپ لائن نمبر کیا ہے؟

NCCIA کی ویب سائٹ کے مطابق ہیلپ لائن 1799 ہے اور یہ 24 گھنٹے کھلی رہتی ہے۔ ہیڈ کوارٹر کے نمبر 051-9106690، 051-9106691 اور 051-8777685 ہیں۔

کیا NCCIA WhatsApp پر جواب دیتی ہے؟

NCCIA کے دفاتر والے صفحے پر ہر سینٹر کا "Cell/Whatsapp" نمبر لکھا ہے، اور سب 0326-83993 سے شروع ہوتے ہیں۔ ہم نے جواب کا وقت آزمایا نہیں، اس لیے فوری معاملے میں لینڈ لائن پر بھی کال کریں۔

لاہور میں NCCIA کا دفتر کہاں ہے؟

NCCIA لاہور کے دو پتے دیتی ہے: تھانہ اسٹریٹ نمبر 15، وفاقی کالونی، کینال روڈ پر، اور ڈائریکٹر سینٹرل اور شکایت سینٹر ہاؤس نمبر 2-A، ٹیک سوسائٹی، ویسٹ بینک کینال روڈ پر۔

کیا آزاد کشمیر میں NCCIA کا دفتر ہے؟

24 اکتوبر 2026 کو NCCIA کی فہرست میں آزاد کشمیر کا کوئی سینٹر نہیں تھا۔ وہاں کے لوگ آن لائن شکایت کر سکتے ہیں اور اسلام آباد یا راولپنڈی سینٹر جا سکتے ہیں۔

کیا NCCIA کو ای میل پر شکایت بھیجی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ NCCIA کا FAQ شکایت کے چار طریقے بتاتا ہے: آن لائن فارم، سٹیزن پورٹل، helpdesk@nccia.gov.pk پر ای میل، اور سینٹر کا دورہ۔

کیا NCCIA اور FIA سائبر کرائم ونگ ایک ہی ہیں؟

اب سائبر کرائم NCCIA دیکھتی ہے۔ اس کا FAQ پیکا قانون (PECA) کی 2025 کی ترمیم کی دفعہ 29(1) کا حوالہ دیتا ہے، جس کے تحت انکوائری اور تفتیش NCCIA کرتی ہے۔

آخری بار کب چیک کیا اور ذرائع

ہماری ٹیم نے 24 اکتوبر 2026 کو براؤزر میں NCCIA کے دفاتر کا صفحہ، NCCIA کا ہوم پیج اور NCCIA کے FAQ پڑھے۔ اوپر کا ہر نمبر، WhatsApp، ای میل اور پتہ اسی صفحے سے لیا گیا ہے۔ 7 نومبر 2026 کو یہ ویب سائٹ ہماری خودکار درخواست پر نہیں کھلی، اس لیے ہم اس دن نمبر دوبارہ نہیں ملا سکے۔ ہم نے کوئی نمبر ملا کر نہیں دیکھا، اس لیے یہ نہیں کہہ سکتے کہ کس وقت کون سا نمبر جواب دیتا ہے۔

لکھاری کے بارے میں