سعودی سفیر کی پاکستانی کارکنوں کو 24 گھنٹے میں ویزا پراسیسنگ کی یقین دہانی، لیکن ابھی کوئی قاعدہ جاری نہیں ہوا
رپورٹس کے مطابق سعودی سفیر نے پاکستانی کارکنوں کے ویزے 24 گھنٹے میں پراسیس کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ابھی کوئی قاعدہ جاری نہیں ہوا۔ جانیں کہ اب کیا کریں۔

5 اور 6 نومبر 2026 کی رپورٹس کے مطابق سعودی سفیر نے پاکستان کے وزیر برائے سمندر پار پاکستانی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کارکنوں کے ویزے 24 گھنٹے میں پراسیس کرنے میں مدد کی جائے گی۔ دونوں فریق ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر بھی متفق ہوئے۔ کوئی نیا قاعدہ، شروع ہونے کی تاریخ یا طریقہ جاری نہیں ہوا، اس لیے آپ کے ویزے کے موجودہ مراحل نہیں بدلے۔
ہم نے 7 نومبر 2026 کو وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل کا خبروں کا صفحہ چیک کیا۔ اس پر سب سے نئی خبر 9 اکتوبر کی تھی، یعنی وزارت نے ابھی وہاں یہ ملاقات نہیں لگائی۔ 24 گھنٹے کی بات کو ملاقات میں کیا گیا وعدہ سمجھیں۔ یہ کوئی ایسی سروس نہیں جو آپ آج کسی ایجنٹ سے مانگ سکیں۔
رپورٹس کے مطابق سفیر نے 24 گھنٹے میں ویزا پراسیسنگ میں مدد کا کہا
رپورٹس کے مطابق سفیر نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین سے ملاقات کی اور کہا کہ سعودی عرب پاکستانی کارکنوں کے ویزے جلد کرنے میں مدد کرے گا، اور پراسیسنگ 24 گھنٹے میں ہوگی۔ رپورٹس اسے یقین دہانی کہتی ہیں۔ ان میں کوئی تاریخ، ویزا کی قسم یا طریقہ نہیں بتایا گیا۔
سفیر نے سعودی عرب میں پاکستانی کارکنوں کے دوسرے مسائل میں مدد کی بات بھی کی۔ جو کچھ ہم نے پڑھا، اس میں یہ مسائل تفصیل سے نہیں لکھے۔ وزیر کی بات ہنر پر تھی: ہنرمند پاکستانیوں کے لیے زیادہ نوکریاں، اور ایسی تربیت جو سعودی مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہو۔
وزیر نے یہ بھی کہا کہ سعودی آجروں کو کون سے ہنر اور کتنے کارکن چاہییں، اس کی معلومات وقت پر دی جائیں۔ یہ بات اہم ہے۔ پاکستان میں تربیتی مرکز ایسی مانگ کے لیے کارکن تیار نہیں کر سکتا جس کا اسے دیر سے پتا چلے۔

مشترکہ ورکنگ گروپ واحد ٹھوس نتیجہ ہے
دونوں فریق ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر متفق ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق اس کا کام پاکستانی کارکنوں کے مسائل دیکھنا، اداروں کا تعاون بڑھانا اور انسانی وسائل کی ترقی ہے۔ اس کے ارکان، پہلی میٹنگ کی تاریخ اور کام کی مدت رپورٹ نہیں ہوئی۔
ورکنگ گروپ دونوں ملکوں کے افسروں کی کمیٹی ہوتی ہے۔ یہ بعد میں طریقہ کار بدل سکتی ہے، لیکن اس کے بننے سے اس ہفتے کسی کارکن کے لیے کچھ نہیں بدلتا۔ ہم اس بنیاد پر نہ سفر کا منصوبہ بنائیں گے اور نہ کسی کو پیسے دیں گے۔
| نکتہ | رپورٹس کیا کہتی ہیں | 7 نومبر کو صورتحال |
|---|---|---|
| ویزا پراسیسنگ | کارکنوں کے ویزے 24 گھنٹے میں پراسیس کرنے میں مدد | صرف یقین دہانی، کوئی طریقہ جاری نہیں |
| مشترکہ ورکنگ گروپ | دونوں فریق بنانے پر متفق | ارکان اور تاریخیں رپورٹ نہیں ہوئیں |
| زیادہ نوکریاں | وزیر نے ہنرمند کارکنوں کے لیے زیادہ نوکریاں مانگیں | ایک درخواست، کوئی عدد نہیں |
| ہنر کی معلومات | وزیر نے مانگ کی بروقت معلومات مانگیں | ایک درخواست، کوئی نظام اعلان نہیں ہوا |
| تحریری نوٹس | وزارت کے خبروں کے صفحے پر کوئی نہیں ملا | بھروسا کرنے سے پہلے دوبارہ چیک کریں |
سعودی ویزے کے موجودہ مراحل فی الحال وہی رہیں گے
جو کچھ ہم نے پڑھا، اس میں کوئی موجودہ مرحلہ ختم نہیں ہوا۔ ویزا اب بھی آپ کے آجر کو جاری کرنا ہے، اور نوکری اصلی ہونی چاہیے۔ میڈیکل، ہنر کا ٹیسٹ اور پروٹیکٹر کے مراحل اس وقت تک رہیں گے جب تک کوئی سرکاری نوٹس کچھ اور نہ کہے، چاہے ایجنٹ کچھ بھی کہے۔
اس وقت کو ان چیزوں کی جانچ میں لگائیں جو آپ کے ہاتھ میں ہیں۔ پہلے اپنے ایجنٹ سے شروع کریں۔ بیورو آف امیگریشن بیرون ملک ملازمت دلانے والوں کو لائسنس دیتا ہے۔ پاسپورٹ یا پیسے دینے سے پہلے آپ اوورسیز جاب ایجنسی چیک کر سکتے ہیں۔ پھر خود ویزا چیک کریں۔
- ویزا نمبر مانگیں اور پاسپورٹ نمبر سے سعودی ویزا چیک کریں۔
- بیورو آف امیگریشن سے ایجنٹ کے لائسنس کی تصدیق کریں۔
- اگر آپ کے ہنر اور ویزے کے لیے ضروری ہو تو Wafid GCC میڈیکل خود بک کریں۔
- دیکھیں کہ آپ کے ہنر کے لیے Takamol اسکل ٹیسٹ ضروری ہے یا نہیں، اور اس کے لیے رجسٹر ہوں۔
- سفر سے پہلے پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کی رجسٹریشن مکمل کریں۔

ایجنٹ 24 گھنٹے کی بات استعمال کریں گے، اس لیے پیسے نہ دیں
ایسی خبر بیچنا آسان ہوتا ہے۔ اگر کوئی یہ کہہ کر اضافی پیسے مانگے کہ اب ویزا 24 گھنٹے میں آئے گا تو انکار کریں اور سرکاری نوٹس مانگیں۔ ایسا کوئی فاسٹ ٹریک اعلان نہیں ہوا جو ایجنٹ آپ کو بیچ سکے۔
قانون میں لائسنس یافتہ ایجنٹوں کی فیس کی حد پہلے سے مقرر ہے۔ جہاں ممکن ہو بینک کے ذریعے ادائیگی کریں، ہر رسید سنبھالیں اور معاہدہ تحریری لیں۔ اگر بغیر لائسنس کسی نے آپ کے پیسے لے لیے ہیں تو آپ ایمیگریشن کے قانون کے تحت غیر لائسنس یافتہ ایجنٹ کی شکایت کر سکتے ہیں۔
یہ بھی دیکھیں کہ یہ وعدہ کیا نہیں کر سکتا۔ جلد ویزا ملنے سے سعودی قواعد نہیں بدلتے کہ کون سی نوکریاں غیر ملکیوں کے لیے کھلی ہیں۔ کچھ پیشے جزوی طور پر سعودی شہریوں کے لیے مخصوص ہیں۔ اس لیے نوکری قبول کرنے سے پہلے سعودائزیشن کے قواعد کی فہرست دیکھ لیں۔

سعودی عرب میں موجود کارکن اپنے کاغذات درست رکھیں
یہ یقین دہانی ویزے جاری کرنے کے بارے میں ہے۔ جو کارکن پہلے سے وہاں ہیں، انہیں اس سے ابھی کوئی نیا تحفظ نہیں ملتا۔ اپنا اقامہ درست رکھیں، معاہدے کی نقل پاس رکھیں، اور اگر آجر معاہدہ توڑے تو لیبر تنازع کا راستہ اختیار کریں۔
سفیر نے کارکنوں کے دوسرے مسائل حل کرنے کی بات ضرور کی، اور ورکنگ گروپ یہی مسائل اٹھا سکتا ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، موجودہ راستے ہی کام کرتے ہیں۔ آپ آن لائن اقامے کی مدت چیک کر سکتے ہیں اور ایگزٹ ری انٹری کی صورتحال دیکھ سکتے ہیں۔ رکی ہوئی تنخواہ کے لیے دوستانہ تصفیے کے مرحلے سے سعودی لیبر تنازع دائر کر سکتے ہیں۔
ایمرجنسی میں سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے کے ایمرجنسی نمبر سے شروع کریں۔ یہ نمبر ابھی اپنے فون میں محفوظ کر لیں، ضرورت والے دن کا انتظار نہ کریں۔
یہ بات حقیقت کیسے بنے گی اور ہم کس چیز پر نظر رکھیں گے
3 چیزیں اسے قابل استعمال بنا سکتی ہیں: کسی بھی حکومت کا تحریری نوٹس، اس میں شامل ویزا کی قسم، اور شروع ہونے کی تاریخ۔ جب یہ سامنے آئیں گی ہم بتائیں گے۔ تب تک اپنے موجودہ وقت کے حساب سے منصوبہ بنائیں۔
مشترکہ ورکنگ گروپ کی پہلی میٹنگ پر بھی نظر رکھیں۔ سالک حسین کی وزارت بیورو آف امیگریشن اور اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن دونوں کو چلاتی ہے، اس لیے کارکنوں کے لیے کوئی بھی تبدیلی ان میں سے کسی ادارے کے نوٹس میں نظر آنی چاہیے۔ واٹس ایپ گروپ کا اسکرین شاٹ نوٹس نہیں ہوتا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا اب پاکستانیوں کے سعودی ورک ویزے 24 گھنٹے میں جاری ہوتے ہیں؟
جاری شدہ قاعدے کے طور پر نہیں۔ رپورٹس کے مطابق سفیر نے 24 گھنٹے میں پراسیسنگ میں مدد کی یقین دہانی کرائی، لیکن کوئی تاریخ یا طریقہ جاری نہیں ہوا۔
یہ وعدہ کس نے کیا؟
پاکستان میں سعودی سفیر نے، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین سے ملاقات میں، جیسا کہ 5 اور 6 نومبر 2026 کو رپورٹ ہوا۔
کیا اس میں عمرہ یا وزٹ ویزا بھی شامل ہے؟
رپورٹس میں صرف کارکنوں کے ویزوں کی بات ہے۔ جو ہم نے پڑھا اس میں عمرہ، وزٹ یا فیملی ویزے کا ذکر نہیں۔
کیا مجھے 24 گھنٹے کے ویزے کے لیے ایجنٹ کو اضافی پیسے دینے چاہییں؟
نہیں۔ کوئی پیسوں والا فاسٹ ٹریک اعلان نہیں ہوا۔ سرکاری نوٹس مانگیں اور اضافی رقم دینے سے انکار کریں۔
مشترکہ ورکنگ گروپ کیا ہے؟
ایک کمیٹی جو دونوں ملکوں نے کارکنوں کے مسائل، اداروں کے تعاون اور انسانی وسائل کی ترقی پر بنانے پر اتفاق کیا۔ اس کے ارکان اور تاریخیں رپورٹ نہیں ہوئیں۔
کیا مجھے اب بھی میڈیکل اور پروٹیکٹر رجسٹریشن کرانی ہوگی؟
ہاں، جہاں آج آپ پر لاگو ہیں۔ جو ہم نے پڑھا اس میں یہ نہیں بدلے، اور کسی سرکاری نوٹس نے کچھ اور نہیں کہا۔
آخری بار کب چیک کیا اور ذرائع
ہم نے 5 اور 6 نومبر 2026 کو شائع ہونے والی ملاقات کی رپورٹس پڑھیں۔ یہ واقعہ صرف پریس رپورٹس سے معلوم ہے، کیونکہ جب ہم نے 7 نومبر کو چیک کیا تو وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل کی خبروں کی فہرست میں 9 اکتوبر 2026 سے نئی کوئی خبر نہیں تھی۔ پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی تازہ ریلیزوں میں بھی، جو ہم نے پڑھیں، اس کا ذکر نہیں تھا۔ بیورو آف امیگریشن کی ویب سائٹ نے ہماری درخواست رد کر دی، اس لیے ہم اس کے نوٹس براہ راست نہیں پڑھ سکے۔
لکھاری کے بارے میں

